دبئی (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے اکتوبر 2026 میں بنیادی شرحِ سود 3.9 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ملک کی مالیاتی پالیسی میں تسلسل برقرار رہے گا۔ یہ فیصلہ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں تبدیلی نہ کرنے کے بعد کیا گیا۔
مرکزی بینک کے مطابق رات بھر کی ڈپازٹ سہولت پر بنیادی شرح 3.9 فیصد برقرار رہے گی، جبکہ مختصر مدت کی نقد رقوم حاصل کرنے کی سہولت پر شرح بنیادی شرح سے 0.50 فیصد پوائنٹس زیادہ ہوگی۔
اماراتی درہم امریکی ڈالر کے ساتھ منسلک ہونے کے باعث ملک کی مالیاتی پالیسی امریکی شرحِ سود سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔ اسی لیے امریکی فیڈرل ریزرو کے فیصلے مقامی بینکاری نظام، قرضوں اور بچت کی شرحوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے لیے شرح سود برقرار رہنا مالیاتی پالیسی کے تسلسل کا اشارہ ہے، تاہم قرض لینے والوں اور بچت کرنے والوں پر اس کے اثرات ان کے بینکوں اور مالیاتی معاہدوں کی شرائط کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔




