دبئی (جانب منزل نیوز)متحدہ عرب امارات میں فالج سے متاثر ہونے والے افراد نے اپنی صحت یابی کی جدوجہد اور زندگی کی طرف واپسی کے تجربات شیئر کرتے ہوئے اس مرض کی بروقت تشخیص، فوری طبی امداد اور بحالی کے عمل کی اہمیت اجاگر کی ہے۔
گلف نیوز کے مطابق ایئرلائن انجینئرنگ کے سینئر مینیجر مارکو جیوانولی 2022 میں 46 سال کی عمر میں فالج کا شکار ہوئے۔ انہیں جسم کے دائیں حصے کو حرکت دینے میں مشکلات پیش آئیں اور روزمرہ کے بنیادی کام دوبارہ سیکھنا پڑے۔ اہل خانہ اور دوستوں کے تعاون سے انہوں نے دوبارہ ملازمت اور دوڑ کا آغاز کیا۔ اب وہ دسمبر میں عمان میں 20 کلومیٹر کی ٹریل ریس میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اسی طرح 56 سالہ شبیر احمد کو گاڑی چلاتے ہوئے اچانک دوہرا دکھائی دینے لگا۔ ایک پاکستانی شہری نے ان کی مدد کی، جس کے بعد اسپتال میں فالج کی تشخیص ہوئی۔ مزید طبی معائنے میں گردے کے قریب رسولی کا بھی پتا چلا، جس سے ان کے علاج کی پیچیدگیاں بڑھ گئیں۔
چالیس سالہ طارق کو شدید چکر آنے اور تقریباً 15 منٹ تک بولنے میں دشواری کے بعد فالج کی تشخیص ہوئی۔ تحقیقات کے دوران دل کے دو بالائی خانوں کے درمیان ایک چھوٹے سوراخ کا انکشاف ہوا۔ طبی طریقۂ علاج کے بعد وہ صحت یاب ہوکر دوبارہ ملازمت اور روزمرہ سرگرمیوں میں مصروف ہوگئے۔
ماہر امراضِ قلب ڈاکٹر جان نکلاس اسٹرکلنگ کے مطابق بلند فشارِ خون، کولیسٹرول، ذیابیطس، تمباکو نوشی اور جسمانی سرگرمیوں کی کمی فالج کے اہم خطرات ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فالج صرف عمر رسیدہ افراد تک محدود نہیں اور نوجوان بھی اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
فالج کی اہم علامات میں اچانک توازن بگڑنا، نظر متاثر ہونا، چہرے کا ایک طرف ڈھلک جانا، بازو میں کمزوری اور بولنے میں دشواری شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں ایسی علامات ظاہر ہونے پر فوری ایمبولینس کے لیے 998 پر رابطہ کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق فالج سے بچاؤ کے لیے بلڈ پریشر کی باقاعدہ جانچ، صحت مند طرزِ زندگی اور علامات کی بروقت شناخت ضروری ہے۔ متاثرہ افراد کی کہانیاں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ مناسب علاج، مسلسل بحالی اور سماجی تعاون سے زندگی میں دوبارہ اعتماد اور سرگرمیوں کی طرف واپسی ممکن ہے۔





