لاہور (جانب منزل نیوز) پاکستان کرکٹ کے مستقبل کو مضبوط بنانے اور نوجوان ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر آگے بڑھانے کے لیے لاہور قلندرز نے ایک اور اہم قدم اٹھا لیا۔ پلیئر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت پانچ نوجوان پاکستانی بولرز کو زمبابوے کے پورے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن میں شرکت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ سید محسن رضا نقوی نے شرکت کی اور لاہور قلندرز کی کاوشوں کو سراہا۔
زمبابوے جانے والے کھلاڑیوں میں تین فاسٹ بولرز ابوبکر، احد عزیز اور فضل الرحمٰن جبکہ دو اسپنرز عبدالعلی اور فیاض الرحمٰن شامل ہیں۔ یہ کھلاڑی زمبابوے میں ریڈ بال اور وائٹ بال دونوں فارمیٹس میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائیں گے اور پیشہ ورانہ کرکٹ کا قیمتی تجربہ حاصل کریں گے۔
لاہور قلندرز نے ان کھلاڑیوں کو مختلف ٹیلنٹ ہنٹ پروگرامز کے ذریعے منتخب کیا۔ لاہور کے 21 سالہ ابوبکر اور مریدکے کے 21 سالہ احد عزیز نے 2025 کے پلیئر ڈیولپمنٹ ٹرائلز میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ گوجرانوالہ کے 22 سالہ عبدالعلی اور ضلع اوکاڑہ کے 23 سالہ فیاض الرحمٰن وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت سامنے آئے، جس کے دوران لاہور قلندرز نے ملک کے 28 شہروں میں ٹرائلز منعقد کیے۔ 21 سالہ فضل الرحمٰن نے پنڈی ٹائیگرز کے ٹرائلز کے ذریعے ٹیم میں جگہ بنائی۔
لاہور قلندرز کا یہ اقدام زمبابوے کرکٹ کے ساتھ جاری کامیاب شراکت داری کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل 2023-24 کے ڈومیسٹک سیزن میں بھی پانچ پاکستانی بولرز سلمان مرزا، جلات خان، مامون ریاض، محمد عادل اور حمزہ سجاد کو زمبابوے بھیجا گیا تھا۔ سلمان مرزا اور جلات خان نے وہاں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زیادہ وکٹیں لینے والے بولرز میں جگہ بنائی۔
سلمان مرزا کی کامیابی اس پروگرام کی افادیت کی نمایاں مثال ہے۔ زمبابوے میں تجربہ حاصل کرنے کے بعد وہ پی ایس ایل 10 میں لاہور قلندرز کی ٹائٹل جیتنے والی ٹیم کا حصہ بنے اور پاکستان کی قومی ٹیم میں بھی جگہ پائی۔ جلات خان اور حمزہ سجاد بھی پی ایس ایل میں بالترتیب پنڈیز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کی نمائندگی کر چکے ہیں، جبکہ مامون ریاض اور محمد عادل ڈومیسٹک کرکٹ میں سرگرم ہیں۔
تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی سید محسن رضا نقوی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی ترقی کے لیے تمام فرنچائزز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نچلی سطح پر کرکٹ کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت میں لاہور قلندرز کا کردار نمایاں ہے۔ محسن نقوی نے فرنچائز کے ہائی پرفارمنس سینٹرز میں فراہم کی گئی سہولتوں کو بھی سراہا۔
لاہور قلندرز کے مالک اور ٹیم ڈائریکٹر سمین رانا نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی کا حقیقی مقصد انہیں ایسے مواقع فراہم کرنا ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں، اعلیٰ سطح پر مقابلہ کریں اور اپنے آپ کو ثابت کر سکیں۔ انہوں نے چیئرمین پی سی بی کی تقریب میں شرکت اور اس پروگرام کی حوصلہ افزائی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
سمین رانا کے مطابق زمبابوے کرکٹ کے ساتھ تعاون نوجوان بولرز کو مختلف کرکٹ ماحول میں سیکھنے، اپنی تکنیکی مہارت بہتر بنانے اور پیشہ ورانہ کرکٹ کے تقاضوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور قلندرز گزشتہ گیارہ برس سے ٹیلنٹ کی تلاش اور تربیت کے لیے کام کر رہا ہے اور آئندہ بھی پاکستان کرکٹ کے مستقبل کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
لاہور قلندرز کے اس اقدام کا بنیادی مقصد صرف باصلاحیت کھلاڑیوں کی تلاش نہیں بلکہ انہیں تربیت، بین الاقوامی تجربے اور عملی مقابلے کے مواقع کے ذریعے قومی اور بین الاقوامی سطح کے لیے تیار کرنا ہے۔ زمبابوے میں پورا ڈومیسٹک سیزن کھیلنے سے نوجوان بولرز کو اپنی صلاحیتوں میں نکھار لانے اور مستقبل میں پاکستان کرکٹ کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔





