تائیوان (جانب منزل نیوز) تائیوان میں طاقتور سمندری طوفان چمپی کے خطرے کے پیشِ نظر بیشتر علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں، تعلیمی ادارے اور مالیاتی مارکیٹیں بند کردی گئیں، جبکہ تقریباً ایک ہزار ملکی اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ کردی گئیں۔ طوفانی ہواؤں اور موسلا دھار بارش کے باعث ایک شخص ہلاک اور 163 افراد زخمی ہوگئے، جبکہ پہاڑی علاقوں سے 2 ہزار 639 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق طوفان کے مرکز کے قریب ہواؤں کے جھکڑ 191 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہے تھے۔ طوفان تائیوان سے تقریباً 170 کلومیٹر مشرق میں موجود تھا اور اس کے شمال مشرقی ساحلی علاقوں کے قریب سے گزرنے کی پیش گوئی کی گئی تھی، تاہم اس کے براہِ راست جزیرے سے ٹکرانے کا امکان بھی رد نہیں کیا گیا۔
تائیوان کے حکام کے مطابق طوفان کے وسیع دائرے کے باعث اس کے اثرات تقریباً دو روز تک برقرار رہ سکتے ہیں۔ شمالی پہاڑی علاقوں میں تقریباً ایک میٹر تک بارش کی پیش گوئی کی گئی، جس سے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات بڑھ گئے۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں، فوجی گاڑیاں اور امدادی کشتیاں تیار رکھی گئیں، جبکہ ساحلی آبادیوں کو شدید ہواؤں کے پیشِ نظر فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
طوفانی موسم کے باعث تائیوان کی تمام 262 ملکی پروازیں اور 717 بین الاقوامی پروازیں منسوخ کردی گئیں، جبکہ مالیاتی مارکیٹیں بھی بند رہیں۔ دارالحکومت تائی پے میں میٹرو سمیت پبلک ٹرانسپورٹ محدود پیمانے پر چلتی رہی۔ بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کے مطابق 77 ہزار سے زائد گھروں کی بجلی منقطع ہوئی، تاہم بیشتر علاقوں میں بجلی بحال کردی گئی۔
دوسری جانب دنیا کی سب سے بڑی کنٹریکٹ چِپ ساز کمپنی ٹی ایس ایم سی نے کہا ہے کہ طوفان کے باوجود اس کے کاروباری آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں اور اب تک کوئی نمایاں اثر سامنے نہیں آیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان چمپی شمال مشرقی تائیوان کے قریب سے گزرنے کے بعد چین کے ساحلی علاقوں کی جانب مڑ سکتا ہے اور بعد ازاں جنوبی جاپان کی طرف بڑھنے کا امکان ہے۔





