واشنگٹن (جانب منزل نیوز) دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی کاروباری سلطنت میں ایک بڑی تبدیلی کے امکانات نے عالمی کاروباری حلقوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ خلائی ٹیکنالوجی کی کمپنی اسپیس ایکس اور الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے ممکنہ انضمام کی راہ میں خود مسک کی منظوری ایک اہم مرحلہ قرار دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسپیس ایکس نے واضح کیا ہے کہ دونوں کمپنیوں کے انضمام کے لیے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ مجوزہ معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے خصوصی کمیٹی، بورڈ آف ڈائریکٹرز اور کنٹرولنگ شیئر ہولڈر کی منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ایلون مسک نے رواں ہفتے دونوں کمپنیوں کے انضمام کو ایک اچھا خیال قرار دیا، لیکن مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کے باعث وہ انضمام سے متعلق مذاکرات میں براہِ راست شریک نہیں ہیں۔ ان کی جانب سے کھلی حمایت نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے، جبکہ بعض افراد کو خدشہ ہے کہ اس سے شیئر ہولڈرز کے سوالات بڑھ سکتے ہیں اور مذاکرات میں کئی ہفتوں کی تاخیر ہو سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ممکنہ انضمام کی مالیت تقریباً 3.5 ٹریلین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ اگر یہ منصوبہ حقیقت کا روپ اختیار کرتا ہے تو دونوں کمپنیوں کے وسائل، سرمایہ اور تکنیکی صلاحیتوں کو ایک مشترکہ کاروباری حکمتِ عملی کے تحت استعمال کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
ایلون مسک ٹیسلا کے تقریباً پانچویں حصے کے مالک ہیں، جبکہ اسپیس ایکس میں انہیں ووٹنگ کے حقوق کے ذریعے کنٹرول حاصل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انضمام کی صورت میں مشترکہ ادارے پر ان کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے مقابلے کے تناظر میں دونوں کمپنیوں کو یکجا کرنے کا تصور اہمیت اختیار کر رہا ہے۔ اس سے سرمایہ کاری، انجینئرنگ کے ماہرین اور بنیادی ڈھانچے کو ترجیحی منصوبوں کے لیے استعمال کرنا آسان ہوسکتا ہے۔
تاہم دونوں کمپنیوں کے کاروباری مفادات اور سرمایہ کاری کی ضروریات مختلف ہیں۔ اسپیس ایکس امریکی فوج، انٹیلی جنس اداروں اور ناسا کے لیے اہم خدمات فراہم کرتی ہے، جبکہ ٹیسلا کی گاڑیوں کی پیداوار اور فروخت میں چین کا نمایاں کردار ہے۔
رائٹرز کے مطابق ٹیسلا نے اپنے سالانہ سرمایہ جاتی اخراجات کا تخمینہ کم کرکے تقریباً 20 ارب ڈالر کردیا ہے، جبکہ اسپیس ایکس کو رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں 35 سے 40 ارب ڈالر کے سرمایہ جاتی اخراجات کی توقع ہے۔
فی الحال یہ انضمام ایک زیرِ غور تجویز ہے، کوئی طے شدہ معاہدہ نہیں۔ آنے والے دنوں میں خصوصی کمیٹیوں اور بورڈ کی پیش رفت یہ طے کرنے میں اہم ہوگی کہ ایلون مسک کی دو بڑی کمپنیوں کو یکجا کرنے کا خیال عملی شکل اختیار کرتا ہے یا نہیں۔





