فیصل آباد (جانب منزل نیوز) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے فیصل آباد میں سرکلر سٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہر کی صنعتی اہمیت اور برآمدی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ صنعتوں کے فروغ، کاروباری سرگرمیوں میں اضافے اور جدید سہولیات کی فراہمی سے معیشت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔
فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کی برآمدات میں نمایاں حصہ رکھتا ہے، تاہم مقامی صنعتکاروں اور تاجروں کو عالمی منڈیوں میں سخت مسابقت اور مختلف کاروباری مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کاروباری برادری کے جائز مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ قیادت سے ملاقاتوں کا اہتمام کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ سرکلر سٹی کا قیام فیصل آباد کی ترقی کے نئے امکانات پیدا کر سکتا ہے اور اس منصوبے کو عملی شکل دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید مالی بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے تاکہ محصولات کی وصولی کا نظام زیادہ منصفانہ بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیار ہونے والی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ کے نام سے متعارف کرانا ضروری ہے۔ متعدد پاکستانی مصنوعات بیرون ملک برآمد ہونے کے باوجود ان پر پاکستانی ساخت کی واضح شناخت درج نہیں ہوتی، جس سے ملکی صنعتی صلاحیت اور پیداواری معیار کی عالمی سطح پر تشہیر متاثر ہوتی ہے۔
گورنر پنجاب نے جامعات اور صنعتوں کے درمیان روابط مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جامعات کے وائس چانسلرز کو صنعتوں کے ساتھ رابطے کے لیے باقاعدہ کمیٹیاں تشکیل دینے اور فوکل پرسن مقرر کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔ اس اقدام سے جامعات میں ہونے والی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور فنی مہارت کو صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ جامعات اور صنعتوں کے درمیان تعاون کے اس سلسلے کا آغاز فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے کیا جائے گا، جبکہ ان کا دفتر بھی آئندہ ہفتے ایک فوکل پرسن مقرر کرے گا تاکہ صنعتکاروں کے مسائل اور تجاویز پر مؤثر رابطہ کاری ممکن ہو سکے۔
سردار سلیم حیدر خان نے توانائی کی قیمتوں میں استحکام اور ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کی لاگت میں بہتری سے صنعتوں کو کاروباری منصوبہ بندی اور پیداواری اخراجات پر قابو پانے میں سہولت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے کاروباری افراد پہلے ہی مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے نئے ٹیکس دہندگان کو نظام میں شامل کرنا ضروری ہے۔
اس موقع پر معروف بزنس مین ریحان اشرف کے قتل کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ گورنر پنجاب نے متعلقہ ملزمان کی فوری گرفتاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے اور شہریوں میں تحفظ کا احساس برقرار رہے،





