پشاور (جانب منزل نیوز) قومی احتساب بیورو (نیب) نے خیبرپختونخوا کے صحت کارڈ پلس پروگرام میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کا نوٹس لیتے ہوئے صحت انصاف کارڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ریاض تنولی کو طلب کرلیا ہے۔ نیب نے انہیں 29 اکتوبر کو پشاور دفتر میں پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
نیب کی جانب سے ڈاکٹر ریاض تنولی سے مالی سال 2023-24 کے دوران 12 ارب روپے کے اجرا اور اخراجات سے متعلق ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، جبکہ جولائی 2025 سے جولائی 2026 تک 9 ارب روپے کے فنڈز بھی جانچ کے دائرے میں شامل کیے گئے ہیں۔
تحقیقات کے دوران صحت کارڈ پلس پروگرام میں غیر مصدقہ اخراجات اور کلیمز سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ صحت کارڈز کے ڈیٹا میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ڈپلیکیٹ کارڈز کے اجرا کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔
نیب حکام کی جانب سے مختلف اسپتالوں کے بھاری مالیت کے کلیمز کی تصدیق کے معاملے کی بھی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ سرکاری فنڈز کس طریقے سے استعمال ہوئے اور اخراجات کا ریکارڈ کس حد تک درست ہے۔
نیب نے متعلقہ مالی معاملات کی جانچ کے لیے بینک اسٹیٹمنٹس، آڈٹ رپورٹس اور وینڈر معاہدے طلب کرلیے ہیں۔ اس کے علاوہ مستحقین کی فہرستیں اور اثاثہ جات کے گوشوارے پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
نیب کے نوٹس میں سرکاری فنڈز کے استعمال اور خریداری کے طریقۂ کار سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تحقیقات کے ذریعے صحت کارڈ پلس پروگرام کے مالی معاملات، اخراجات اور اسپتالوں کے کلیمز کی شفافیت کا جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات سے متعلق ہے، اور کسی بھی فرد کے خلاف الزامات کی حتمی حیثیت متعلقہ شواہد اور تحقیقات کے نتائج سے ہی طے ہوگی۔





