اسلام آباد (جانب منزل نیوز) سابق نگراں وفاقی وزیر اور چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ گوہر اعجاز نے مطالبہ کیا ہے کہ کمرشل بینکوں میں جمع رقوم کو ملکی معاشی ترقی، کاروباری سرگرمیوں اور صنعتی پیداوار کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بینکوں کے ڈیپازٹس صرف حکومت کو قرضے دینے تک محدود نہیں رہنے چاہییں بلکہ نجی شعبے کو بھی ان رقوم تک آسان رسائی فراہم کی جائے۔
گوہراعجاز کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران کمرشل بینکوں کے ڈیپازٹس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ستمبر 2026 میں ان کا حجم بڑھ کر 40.83 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، جبکہ ستمبر 2022 میں یہ تقریباً 21 ٹریلین روپے تھا۔
انہوں نے کہا کہ بینکوں میں جمع رقوم کو کاروباری اور صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے بروئے کار لانے سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی، نئی صنعتیں قائم ہوں گی اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔
سابق نگراں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کاروباری طبقے کو مالی وسائل تک آسان رسائی فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صنعتوں اور کاروبار کو قرضوں کی بہتر سہولتیں ملنے سے پیداوار میں اضافہ ہوگا، معاشی ترقی کی رفتار تیز ہوگی اور ملکی معیشت کا پہیہ چلے گا۔
گوہراعجاز نے مزید کہا کہ معاشی سرگرمیوں میں اضافے سے حکومتی آمدن بہتر بنانے اور ملکی قرضوں و ان پر سود کی ادائیگیوں کے بوجھ کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ان کے مطابق بینکوں کے بڑھتے ہوئے ڈیپازٹس کو پیداواری شعبوں میں استعمال کرنا ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اہم ہے۔





