دبئی (جانب منزل نیوز) دبئی نے مستقبل کی ٹرانسپورٹ کی جانب ایک اور بڑا قدم اٹھا لیا، بغیر ڈرائیور چلنے والی جدید برقی پوڈز کی آزمائش شروع کر دی گئی ہے۔ مصنوعی ذہانت سے لیس یہ پوڈز نہ صرف جدید سفری سہولت فراہم کریں گی بلکہ شہری ٹرانسپورٹ کے روایتی تصور کو بھی بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دبئی روڈز اینڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی (RTA) نے بلیو واٹرز میں Glydways خودکار ٹرانسپورٹ نظام کا چار ہفتوں پر مشتمل آزمائشی مرحلہ شروع کیا ہے۔ یہ پوڈز عام ٹریفک سے الگ مخصوص راستوں پر چلیں گی، جس سے ٹریفک کے دباؤ اور سفر کے وقت میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
جدید برقی پوڈ میں بیک وقت چار سے چھ مسافر سفر کر سکیں گے، اس کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد پوڈ کے 250 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت بھی بتائی گئی ہے۔ سینسرز، ریڈار، کیمروں اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان کی نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جائے گا، جبکہ مسافروں کے لیے ایئرکنڈیشننگ اور تفریحی سہولیات بھی موجود ہوں گی۔
آر ٹی اے کے ڈائریکٹر جنرل مطر الطائر نے بھی جدید پوڈ میں سفر کرکے منصوبے کا جائزہ لیا۔ آزمائشی مرحلے میں حفاظت، کارکردگی، سفر کے دورانیے اور مسافروں کی سہولت کو جانچا جائے گا۔
منصوبے کی مکمل صلاحیت حاصل ہونے پر دونوں سمتوں میں فی گھنٹہ 20 ہزار سے زائد مسافروں کو منتقل کیا جا سکے گا۔ منصوبے کے تخمینوں کے مطابق روایتی متبادل نظاموں کے مقابلے میں تعمیراتی اخراجات میں 90 فیصد اور آپریشنل اخراجات میں 70 فیصد تک کمی ممکن ہے۔
دبئی کا یہ اقدام اسمارٹ سٹی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے وژن کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ آزمائش کامیاب رہی تو مستقبل میں شہریوں کو سفر کا ایسا جدید طریقہ میسر آ سکتا ہے، جس میں ڈرائیور کے بغیر سفر اور مخصوص راستوں پر نقل و حرکت شہری ٹرانسپورٹ کی نئی پہچان بن سکتی ہے۔





