اسلام آباد (جانب منزل نیوز) لائبہ خودکشی کیس کی تفتیش میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، پولیس نے مرکزی ملزم نعمان کے ساتھ مبینہ طور پر منسلک دو خواتین کو بھی حراست میں لے لیا، جبکہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔
اسلام آباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم نعمان کو سیکٹر ایچ 13 میں ایک کرائے کے کمرے سے گرفتار کیا، جہاں وہ مبینہ طور پر روپوش تھا۔ کارروائی کے دوران اس کی دو ساتھی خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا، جن میں سے ایک کا نام مقدمے میں پہلے ہی درج ہے۔
تحقیقاتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر ایک منظم گروہ کی صورت میں سرگرم تھے۔ مرکزی ملزم کے موبائل فون سے آن لائن فراڈ اور خواتین کو مبینہ طور پر بلیک میل کرنے سے متعلق شواہد بھی ملے ہیں، جن کا فرانزک اور تفتیشی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ملزم نعمان ماضی میں کوئٹہ کے ایک سرکاری ادارے میں ملازمت کرچکا ہے، جہاں سے مبینہ طور پر بدعنوانی کے الزامات کے تحت اسے ملازمت سے برطرف کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ چند سال قبل اسلام آباد کی ایک نجی کمپنی میں بھی کام کرتا رہا ہے۔
پولیس کی جانب سے ملزم اور اس کے مبینہ ساتھیوں سے تفتیش کے ذریعے کیس کے مختلف پہلوؤں، ممکنہ سہولت کاروں اور مبینہ مالی و ڈیجیٹل سرگرمیوں کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، ملزمان کے خلاف عائد الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تفتیش اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔





