واشنگٹن (جانب منزل نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری مسلح تنازع میں توانائی کے اہم مراکز کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری سیز فائر کا اعلان کردیا، تاہم روس کی جانب سے اس مفاہمت کی تاحال باضابطہ توثیق نہیں کی گئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ جنگ بندی کے تحت دونوں فریق پاور پلانٹس، الیکٹرک گرڈ، بجلی کی ترسیلی لائنوں اور دیگر اہم انرجی انفراسٹرکچر کو فضائی حملوں اور میزائل اسٹرائیکس کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔
ذرائع کے مطابق اس انتظام کا اطلاق فوری طور پر ہونا ہے، جس کا بنیادی مقصد توانائی کے نظام پر مزید حملوں کی روک تھام، بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے تسلسل کو برقرار رکھنا اور شہری آبادی کو بنیادی توانائی کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
یوکرینی صدر ولادومیر زیلینسکی نے امریکی اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کشیدگی میں کمی کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر روس انرجی انفراسٹرکچر پر حملے معطل کرتا ہے تو یوکرین بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائیاں روکنے کے لیے آمادہ ہے۔
زیلینسکی نے واضح کیا کہ اگر صدر ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان اس معاملے پر اتفاقِ رائے قائم ہوا ہے تو جنگ بندی کے مؤثر ہونے کی تاریخ اور ٹائم لائن واضح کی جائے، تاکہ یوکرین اس مفاہمت پر عمل درآمد کرسکے۔
دوسری جانب روسی حکومت کی جانب سے تاحال اس مجوزہ سیز فائر کی باضابطہ توثیق یا عملی نفاذ کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے جنگ بندی کے دائرۂ کار، نگرانی کے طریقۂ کار اور خلاف ورزی کی صورت میں ممکنہ ردعمل سے متعلق تفصیلات ابھی غیر واضح ہیں۔





