اسلام آباد (جانب منزل نیوز) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی کا کہنا تھا کہ اگر ایمرجنسی نافذ ہی کرنی ہے تو پھر وفاق میں کی جائے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انہیں فون کر کے صوبائی حکومت کے عدم تعاون کا موقف پیش کیا، تاہم انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر یہی پیمانہ ہے تو پھر بلوچستان میں ایمرجنسی کیوں نہیں لگائی جا رہی
مولانا فضل الرحمان نے عسکری آپریشنز کی حکمت عملی پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ بار بار کے آپریشنز کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونا ناکامی کا ثبوت ہے۔ پیپلز پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے دعوے داروں نے آئین اور انسانی حقوق کو دفن کر دیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت اور وزیراعظم کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے معاملات طے کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن حکومت اپنے وعدوں سے مکر گئی۔ مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت کے پی میں اس فیصلے کو ہرگز قبول نہیں کرے گی اور جلد اس کے خلاف بھرپور سیاسی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔





