اسلام آباد (جانب منزل نیوز) وزیراعظم شہباز شریف سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان وزیراعظم ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور قومی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات تقریباً پونے 2 گھنٹےجاری رہی۔
طویل ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان وزیراعظم ہاؤس سے روانہ ہوگئے۔ ملاقات کے فوری بعد وہ اپنی رہائش گاہ پہنچے، جہاں پارٹی کی دیگر قیادت کو وزیراعظم کے ساتھ ہونے والی گفتگو اور مشاورت سے آگاہ کیے جانے کا امکان ہے۔
سیاسی حلقوں میں اس ملاقات کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سے دوبارہ رابطے کیے جانے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ تاہم ملاقات میں زیرِ بحث آنے والے معاملات اور آئندہ سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے تفصیلات باضابطہ طور پر سامنے نہیں آئیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات کا سلسلہ اچانک ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد شروع ہوا۔ وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان سے فون پر بات چیت کے دوران انہیں وزیراعظم ہاؤس آنے کی دعوت دی، جس کے بعد جے یو آئی (ف) کے سربراہ اپنے وفد کے ہمراہ ملاقات کے لیے پہنچے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے آج شام ایوان صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی اہم ملاقات کی۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے معاملے پر اتفاق کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے سرکاری اعلامیے یا باضابطہ تصدیق کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
وزیراعظم کی صدر مملکت اور مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقاتوں کے تناظر میں ملکی سیاسی صورتحال پر مشاورت اور مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان رابطوں کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ تاہم ان ملاقاتوں کے نتائج، ممکنہ فیصلوں اور آئندہ اقدامات سے متعلق حتمی صورت حال باضابطہ تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔





