لاہور(جانب منزل نیوز) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے نوٹس پر دو سال سے لاپتہ لڑکی بازیاب ہو گئی ہے۔ عدالت نے صوبے سے 500 سے زائد لڑکیوں کے لاپتہ ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے فیصل آباد کی سعدیہ حسین کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالتی حکم پر آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ پولیس نے دو برس سے لاپتہ لڑکی کو بھی بازیاب کروا کر عدالت کے سامنے پیش کر دیا۔
سماعت کے دوران آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت 500 سے زائد لاپتہ لڑکیوں کے کیسز موجود ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ کے نوٹس پر ہی پولیس کیوں حرکت میں آتی ہے؟ عدالت نے خواتین کے کیسز میں پولیس کی لاپرواہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو تمام لاپتہ لڑکیوں سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی
چیف جسٹس کے نوٹس پر فیصل آباد کی سعدیہ حسین دو سال بعد بازیاب، آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ صوبے میں 500 سے زائد لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کے کیسز ہیں۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ کے نوٹس لینے پر ہی پولیس حرکت میں آتی ہے، جبکہ تھوڑی سی کوشش سے لڑکی بازیاب ہو گئی۔ عدالت نے پولیس کی لاپرواہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے تمام لاپتہ لڑکیوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔





