لاس اینجلس(جانب منزل نیوز) ہالی ووڈ کے معروف اداکار ٹام کروز جن کا نام ہی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے کی نئی فلم ’ڈیگر‘ خلاف توقع باکس آفس پر بری طرح ناکام رہی۔
ہالی ووڈ پر اسٹار ٹام کروز کی نئی فلم ’ڈیگر‘ نے پہلے ہفتے میں صرف 80 لاکھ ڈالر کمائے، جسے فلم کی بڑی مالی ناکامی میں شمار کیا جارہا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق ’ڈیگر‘ کو شمالی امریکا کے 3 ہزار 321 سنیما گھروں میں ریلیز کیا گیا تھا، فلم کی ابتدائی آمدنی توقعات سے کہیں کم رہی، جبکہ حتمی اعداد و شمار سامنے آنے پر اس رقم میں معمولی تبدیلی کا امکان ہے۔
فلمی پنڈتوں کا خیال تھا کہ یہ فلم تقریباً 75 لاکھ ڈالر کا بزنس کرے گی، تاہم بڑے بجٹ اور ٹام کروز جیسے عالمی شہرت یافتہ اداکار کی موجودگی کے باوجود فلم کا بزنس حیران کن طور پر خراب رہا۔
مذکورہ فلم کا تخمینہ بجٹ 16 کروڑ سے 18 کروڑ ڈالر کے درمیان بتایا جاتا ہے، باکس آفس ماہرین کے مطابق اس حجم کی فلم کو اپنے اخراجات کے مقابلے میں قابلِ قبول آغاز کے لیے کم از کم 4 کروڑ ڈالر کا آغاز درکار تھا مگر ریلیز سے قبل منفی تاثر اور خراب تشہیر کے باعث توقعات مسلسل کم ہوتی چلی گئیں۔
فلم میں ٹام کروز نے ایک طاقتور آئل ٹائیکون کا کردار ادا کیا ہے جو ایک بڑے ماحولیاتی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ’ڈیگر‘ کی ہدایت کاری الیخاندرو گونزالیز ایناریٹو نے کی ہے، جو ’برڈمین‘ اور ’دی ریویننٹ‘ جیسی تنقیدی اور تجارتی طور پر کامیاب فلمیں دے چکے ہیں۔
وارنر برادرز کو امید تھی کہ کروز اور ایناریٹو کی جوڑی فلم کو کم از کم 1 کروڑ 80 لاکھ سے 2 کروڑ ڈالر کی افتتاحی کمائی دلوا دے گی، تاہم فلم اس ہدف سے بھی بہت دور رہی۔
یوں ٹام کروز جیسے بڑے اسٹار، معروف ہدایت کار اور کروڑوں ڈالر کے بجٹ کے باوجود ’ڈیگر‘ کی ابتدائی ناکامی ہالی ووڈ میں بڑے بجٹ کی اسٹار پاور پر مبنی فلموں کے لیے ایک بڑا سوال بن کر سامنے آئی ہے۔
اس سے قبل فلم کی ریلیز کے موقع پر اداکار ٹام کروز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ مجھے اس فلم کا حصہ بننے پر بے حد فخر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلم ’’ڈیگر‘‘ باضابطہ طور پر سنیما گھروں میں ریلیز ہوچکی ہے اور مجھے بے حد خوشی اور اعزاز حاصل ہے کہ مجھے اتنے باصلاحیت فنکاروں کے ساتھ مل کر یہ فلم تخلیق کرنے کا موقع ملا۔
میں پوری کاسٹ اور عملے کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں، جنہوں نے اس فلم کے لیے اپنی بھرپور لگن، محنت اور خوشی کے ساتھ کام کیا۔ یہ تجربہ واقعی ناقابلِ فراموش رہا۔








