دبئی (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات میں مقیم پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے ماہر قادر محمود کو ڈبلیو ایس ایچ ایشیا ایوارڈز 2026 میں ’’سیفٹی انفلوئنسر آف دی ایئر‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ وہ رواں سال یہ اعزاز حاصل کرنے والے واحد فرد ہیں۔
سنگاپور کے سینڈز ایکسپو اینڈ کنونشن سینٹر میں منعقدہ گالا ڈنر اور تقسیمِ اعزازات کی تقریب میں 234 افراد نے شرکت کی، جن میں مختلف ممالک کے حفاظتی امور کے ماہرین، کمپنیوں کے نمائندے اور صنعتی شعبے کے رہنما شامل تھے۔ تقریب میں صحت و سلامتی، ٹیکنالوجی، ماحولیات اور پائیداری کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی پر اعزازات دیے گئے۔

چھ برس تک آن لائن انعقاد اور 30 سے زائد ممالک کی شرکت کے بعد اس سال ایوارڈز پہلی مرتبہ دو مراحل میں منعقد ہوئے۔ پہلے مرحلے میں منتخب امیدواروں کے ناموں کا اعلان براہِ راست آن لائن نشریات کے ذریعے کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں سنگاپور میں بالمشافہ تقریب ہوئی۔
صحت و سلامتی، ٹیکنالوجی، ماحولیاتی پائیداری اور صنعتی اقدامات سے متعلق کیٹیگریز میں 41کمپنیوں کو ابتدائی فہرست میں شامل کیا گیا، جن میں سے 21 حتمی مرحلے تک پہنچیں۔ انفرادی اعزازات میں ’’وژنری لیڈرز‘‘ کے لیے 10 اور ’’آؤٹ اسٹینڈنگ سیفٹی پریکٹیشنرز‘‘ کے لیے 20 امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا، جن میں سے بالترتیب 6اور 10 امیدوار فائنلسٹ قرار پائے۔ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے بھی 2 امیدوار حتمی مرحلے میں شامل تھے۔
مجموعی طور پر 10 افراد کو ’’آؤٹ اسٹینڈنگ سیفٹی پریکٹیشنرز ایوارڈ‘‘ دیا گیا، تاہم ’’سیفٹی انفلوئنسر آف دی ایئر‘‘ کا اعزاز صرف قادر محمود کے نام رہا۔ امیدواروں کی کارکردگی کا جائزہ ایشیا بحرالکاہل کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے صنعتی ماہرین کے پینل نے لیا۔
اعزاز حاصل کرنے پر قادر محمود نے کہا، ’’یہ ایوارڈ میرے لیے باعثِ فخر ہے۔ یہ صرف میری ذاتی کامیابی نہیں، بلکہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے ہر اس سیفٹی پروفیشنل کی کامیابی ہے جو انسانی جانوں کے تحفظ اور سلامتی کے مضبوط کلچر کے فروغ کے لیے مسلسل محنت کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اعزاز خطے میں پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے اہم کردار کو اجاگر کرے گا اور مزید ماہرین کو بامقصد قیادت کی ترغیب دے گا۔








