اسلام آباد (جانب منزل نیوز) اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے جوڈیشل کمپلیکس حملہ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
پیر کو کیس کی سماعت کے دوران انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے حکم دیا کہ سابق وزیرِ اعظم کو ذاتی حیثیت یا ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے۔
عدالت نے سابق وزرا فرخ حبیب، حماد اظہر، مراد سعید اور شبلی فراز کو اشتہاری قرار دے کر ملزمان کی جائیدادوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم، پی ٹی آئی ایم پی اے حسن خان نیازی کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت پانچ نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔ جوڈیشل کمپلیکس میں تو پھوڑ کا مقدمہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔
خیال رہے کہ مارچ 2023 میں توشہ خانہ کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس میں پی ٹی آئی کارکناں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپی ہوئی تھیں۔
پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر یہ الزام ہے کہ اُنھوں نے کارکنوں کو جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ اور پتھراؤ پر اُکسایا۔








