کراچی(جانب منزل نیوز) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گورنر راج اور ایمرجنسی جیسے آئینی اختیارات کو آخری حربے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جبکہ ان کے استعمال سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کو باہمی گفت و شنید کے ذریعے مسائل کا سیاسی حل تلاش کرنا چاہیے۔
کراچی میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تقریبِ افتتاح سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت کا مسئلہ پورے ملک کو درپیش ہے، تاہم سندھ اور خصوصاً کراچی اس بحران سے شدید متاثر ہیں۔ انہوں نے واٹر ایکارڈ کے مطابق کراچی اور سندھ کو ان کے جائز حصے کے پانی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیماڑی میں 25 ملین گیلن واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی طرح شہریوں کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے سندھ کی محرومیوں کا تمسخر اڑانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وفاق سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔
دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے زور دیا کہ بدامنی کو سیاسی تناظر میں دیکھنے کے بجائے قومی چیلنج تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں جاری دہشت گردی کے اثرات براہِ راست کراچی پر مرتب ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی حدود سے ہونے والے حملوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھارتی شمولیت کے حقائق بالکل واضح ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی سطح پر مذاکرات کرکے مسائل کا پائیدار حل نکالا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کسی بھی سخت کارروائی سے قبل وفاق اور حکومتِ خیبر پختونخوا کے درمیان دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ معاہدہ ہونا چاہیے تاکہ ملک کو مزید آئینی اور سیکیورٹی بحران سے بچایا جا سکے








