نیویارک (جانب منزل نیوز) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے محاذ آرائی اور جنگ کے بجائے امن اور بات چیت کو ترجیح دی ہے۔ عالمی اعتماد کی بحالی اور امن کو یقینی بنانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ، کشمیر اور فلسطین سمیت حالیہ تنازعات کا حل انتہائی اہم ہے۔حالیہ کشیدہ صورتحال میں میزائلوں، ڈرونز اور بندوقوں کی گھن گرج کے درمیان سفارتکاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہئے۔
ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے جمعہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا موضوع ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے مؤثر ثابت ہو‘‘ہے۔193 رکنی عالمی ادارے سے اپنے چوتھے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی اور علاقائی سطح پر درپیش اہم چیلنجز کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف اور وژن پیش کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی بحرانوں، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، افغانستان سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، ترقی پذیر ممالک پر بڑھتے ہوئے معاشی اور قرضوں کے بوجھ اور عالمی سطح پر کشیدگی میں فوری کمی اور مذاکرات کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ میرے لئے اعزاز کی بات ہے کہ میں 24 کروڑ باہمت، ثابت قدم اور امن پسند پاکستانی عوام کی جانب سے اس معزز ایوان سے چوتھی مرتبہ خطاب کر رہا ہوں۔شہباز شریف نے موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک خطرناک وقت میں رہ رہے ہیں لیکن ہمارا مستقبل یقیناً پہلے سے طے شدہ نہیں ہے لہٰذا جنگ ایک انتخاب (چوائس)ہے تاہم امن کہیں بہتر انتخاب ہے اور بعض اوقات بڑی بہادری جنگ شروع کرنے میں نہیں بلکہ اسے روکنے میں مضمر ہوتی ہے،پاکستان نے اپنا انتخاب کر لیا ہے،پاکستان نے محاذ آرائی پر مکالمے کا انتخاب کیا ہے، ہم نے جبر کی بجائے تعاون کو چنا ہے،ہم نے جنگ کی بجائے امن کا انتخاب کیا ہے،جنرل اسمبلی کا یہ 81واں اجلاس ہمارے لیے،ہمارے بچوں کے لیےاور آنے والی نسلوں کے لیے بھی یہی انتخاب کرے،آئیے اعتماد بحال کریں، آئیے امن کو محفوظ بنائیں اور ثابت کریں کہ ایک منقسم دنیا میں بھی انسانیت اب بھی متحد ہو کر کھڑے ہونے کا راستہ اپنا سکتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ امن کا حصول انسانی کوششوں میں سب سے عظیم اور مقدس مقاصد میں سے ایک ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد گرامی ہے کہ”اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی ان کی طرف مائل ہو جاؤ‘‘۔ (سورۃ الانفال، آیت 61)۔انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی فرمایا تھا کہ’’ہم اقوام متحدہ کے منشور کے ساتھ کھڑے ہیں اور دنیا کے امن و خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے میں مسرت محسوس کریں گے‘‘۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکمت کے یہ موتی پاکستان کے قومی تشخص کا حصہ رہے ہیں اور انہوں نے اندرونِ اور بیرونِ ملک ہمارے طرزِ عمل کی رہنمائی کی ہے۔۔وزیراعظم شہبا ز شریف نے کہا کہ ایک سال قبل پاکستان کو بھارت کی جانب سے بلاجواز بیرونی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان نے اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے بنیادی حقِ دفاع کا استعمال کیا، ہماری بہادر اور شجاع مسلح افواج نے چیف آف آرمی سٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دلیرانہ قیادت میں انتہائی پیشہ وارانہ انداز اور درست حکمتِ عملی کے ساتھ جواب دیا۔ انہوں نے دشمن کے حملوں کو پسپا کیا اور اسے ایسا سبق سکھایا جسے وہ کبھی بھول نہیں سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ بلاشبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پُرعزم اور دوراندیش قیادت کی بدولت جنوبی ایشیا میں کروڑوں زندگیاں بچائی گئیں،ان کی بروقت مداخلت ایک ایسے فیصلہ کن موقع پر سامنے آئی جب دو جوہری طاقتوں کے حامل ہمسایہ ممالک ایک ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے،کون جانتا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے واضح سوچ اور عمل کے ساتھ اس نازک موقع پر مداخلت نہ کی ہوتی تو کتنی تباہی واقع ہو سکتی تھی؟لہٰذا ہمیں اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ جنوبی ایشیا دوبارہ کبھی اس خطرناک مقام تک نہ پہنچے لیکن اس کے لیے جموں و کشمیر کے تنازعہ کا شفاف اورمنصفانہ حل ضروری ہے، آٹھ دہائیوں سے کشمیری عوام اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے اپنے وعدے کی تکمیل کے منتظر ہیں،کشمیری نسل در نسل غیر قانونی قبضے، من مانی اور ماورائے عدالت حراست، قتل، جبری گمشدگیوں، جنسی تشدد اور اجتماعی سزا کا سامنا کرتے آئے ہیں،حالیہ عرصے میں آبادیاتی ری-انجینئرنگ اور دیگر غیر قانونی اقدامات کے ذریعے جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں، بے بس کشمیری مائیں اور باپ اپنے ان بیٹوں اور بیٹیوں کے منتظر ہیں جو کبھی واپس نہیں آتے، ان کے گھر کرفیو اور غم کی خاموشی میں ڈوبے ہوئے ہیں،بہت سے لوگوں کے لیے کوئی اختتام یا تسلی نہیں، صرف ایسی پوری زندگی ہے جو بے نام قبروں کی تلاش میں گزر جاتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس ایوان سے اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کو پوری ذمہ داری اور اختیار کے ساتھ یقین دلاتے ہیں کہ ہم اس وقت تک انہیں اپنی مکمل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت فراہم کرتے رہیں گے جب تک انہیں حقِ خود ارادیت کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل نہیں ہو جاتا۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں استحکام کی ایک اور بنیاد اب دباؤ کا شکار ہے، سندھ طاس کا مشترکہ نظامِ آب نہ صرف پاکستان کے عوام بلکہ پورے خطے کے لوگوں کے لیے زندگی کابنیادی عنصر ہے،موجودہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل رکھنے کا بھارت کا فیصلہ کسی بھی قانونی بنیاد سے محروم ہے،درحقیقت اقوام متحدہ کے ماہرین اور حال ہی میں ثالثی عدالت کی جانب سے بھی اس کے دعوئوں اور اقدامات کو مسترد کیا گیا ہےجس سے ہمارا یہ جائز مؤقف کہ یہ معاہدہ بدستور مؤثر، پابند اور مکمل طور پر قابلِ عمل ہے، درست ثابت ہوا ہے۔ شہبازشریف نے کہا کہ پانی کو کبھی ہتھیار نہیں بنایا جانا چاہئے،دریاؤں کو قوموں کی پرورش کرنی چاہئے، انہیں تقسیم نہیں کرنا چاہئے، لہٰذا پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے، اس میں رکاوٹ ڈالنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور کی جائے گی، بھارت اس بارے میں کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی صدارت میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے تنازعات کے پرامن حل کے طریقۂ کار کو مضبوط بنانے سے متعلق قرارداد 2788 کا متفقہ طور پر منظور ہونا عالمی امن کے لیے ہمارے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے رواں سال فروری میں خلیج کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ کا وسیع تر خطہ تنازعہ کی لپیٹ میں آ گیا جس سےقیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں، معیشتوں کو نقصان پہنچا اور عالمی تجارت کی اہم بحری گزرگاہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز، شدید دباؤ کا شکار ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ اس نازک موقع پر پاکستان نے فوری طور پر عملی قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ مشترکہ اور مسلسل کوششوں کے ذریعے پاکستان ،واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ایک میز پر لانے میں کامیاب ہوا۔ اسلام آباد مذاکرات سے لے کر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت تک، سنجیدہ تنازع کے خاتمے کے لیے کئی تاریخی اقدامات کئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دل کی گہرائیوں سے قدر کرتا ہوں جن کی انتھک کوششوں نے انتہائی مشکل حالات میں سفارتکاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے میں مدد دی، میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی کوششوں کو بھی سراہتا ہوں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہم نے ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں خطرناک اضافہ دیکھا ہے تاہم میزائلوں، ڈرونز اور توپوں کی گھن گرج کے درمیان سفارتکاری کی آواز کو مزید بلند ہونا چاہئے۔شہباز شریف نے کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی شہ رگ ہیں، انہیں کھلا رہنا چاہئے تاکہ اقوام کو ایک دوسرے سے جوڑیں، نہ کہ تصادم کے راستے بند کرنے والے مقامات بن جائیں،یہ سمندری راستے خوشحالی کا عہدبنیں، جنگ کے خطرات نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک مرتبہ پھر مملکتِ سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حالیہ قابلِ مذمت حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، مقدس شہرمکہ مکرمہ پر ڈرون حملے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو شدید رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے، حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کے لیے کسی بھی قسم کا خطرہ ایک ایسی سرخ لکیر ہے جسے کبھی عبور نہیں کیا جانا چاہئے، کوئی مسلمان ایسے گھناؤنے جرم کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے، جیسا کہ ہماری پوری تاریخ میں ہمیشہ ہوتا آیا ہے، امن کے لیے ہماری دیرینہ وابستگی پاکستان کے برادر ممالک سعودی عرب اورترکیہ کے درمیان تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے بھی ظاہر ہوتی ہے، یہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں ہے، یہ خطے میں دفاع، استحکام اور امن کے لیے ہماری اجتماعی عزم کا اظہار ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں.
فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نسل در نسل فلسطینی عوام خصوصاً خواتین، بچوں اور بزرگوں کو قبضے، بے دخلی، مصائب اور موت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،گزشتہ سال میں نے اسی پلیٹ فارم سے ہند رجب کی دل دہلا دینے والی داستان آپ کے سامنے رکھی تھی جو ایک معصوم فلسطینی بچی تھی اور جسے اسرائیلی فوجیوں نے بے دردی سے گولی مار دی تھی،اس سال ایک اور سانحہ ہمارے ، آپ کے اور دنیا کے دلوں پر بوجھ ہے،یہ آٹھ سالہ وفا عقیلہ جس نے جام شہادت نوش کیا، کی غم سے نڈھال ماں کی وہ چیخیں ہیں جو ہمارے دلوں کو چیر دیتی ہیں،اس بے رحم جارحیت میں جس دن اسے سکول جانا تھا، افسوس کہ وہی دن اس کی زندگی کا آخری دن بن گیا،کیا غزہ میں پیدا ہونے والا بچہ دنیا کے کسی بھی دوسرے حصے میں پیدا ہونے والے بچے جیسی زندگی ،مستقبل اور خواب کا حق دار نہیں؟ ہند رجب، وفا عقیلہ اور بے شمار دیگر کے سانحات تاریخ میں ہمارے اجتماعی سکوت، ناکامی اور بے عملی کے خلاف ایک فردِ جرم کے طور پر گونجتے رہیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ اسرائیلی تشدد اب مغربی کنارے تک پھیل چکا ہے جہاں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی واضح طور پر اسرائیل کے اس ایجنڈے کی عکاسی کرتی ہے جسے پاکستان نسل کشی پر مبنی قرار دیتا ہے اور جو بدستور جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ واحد منصفانہ اور پائیدار حل ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کا قیام ہے جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم لبنان اور شام کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی بھی مذمت کرتے ہیں،یہ بھی فوری طور پر بند ہونی چاہئے۔
دہشت گرد ی کے حوالہ سے وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے بدستور سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے، دہشت گردی کے خلاف ایک صفِ اول کے ملک کی حیثیت سے ہم نے اپنے ہی شہروں، اپنے ہی پہاڑوں اور اپنی سرحدوں پر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے،پاکستان نے تقریباً ایک لاکھ قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات برداشت کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج دنیا زیادہ محفوظ ہے اور میں نہایت عاجزی کے ساتھ کہوں گا کہ ہماری بہادر مسلح افواج اور غیور شہریوں نے ان دہشت گردوں اور شرپسندوں کا مقابلہ کیا اور بے مثال قربانیاں دیں، امن پسند دنیا کو اس حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین بدستور تحریک طالبان پاکستان، فتنۃ الخوارج اور بی ایل اے، فتنۃ الہندستان کے زیرِ استعمال ہے،یہ بیرونی مالی معاونت سے چلنے والے گروہ افغانستان کے اندر موجود محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے کارروائیاں کرتے ہیں،اس صورتحال کا فوری اور مکمل خاتمہ ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ افغان حکام کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور قابلِ تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ افغان سرزمین دوبارہ کبھی پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو،افغان عوام کے بنیادی حقوق خصوصاً خواتین اور بچیوں کے حقوق کا ہر حال میں ا حترام کیا جانا چاہئے۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی امن فوج اجتماعی سلامتی کے مضبوط ترین مظاہر میں سے ایک ہے،کئی دہائیوں سے پاکستانی مرد و خواتین نیلے پرچم تلے خدمات انجام دیتے آئے ہیں، شہریوں کا تحفظ کرتے رہے ہیں اور ممالک کو تنازعات سے نکل کر امن کی طرف بڑھنے میں مدد دیتے رہے ہیں،ہم ان کی قابلِ قدرقربانیوں پر فخر کرتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ اسلاموفوبیا میں تشویشناک اضافہ انتہائی پریشان کن ہے کیونکہ مسلمانوں کو نفرت انگیز تقاریر، امتیاز، مساجد پر حملوں اور قرآنِ کریم کی بے حرمتی کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری سرحد کے بالکل دوسری جانب آر ایس ایس سے وابستہ ہندوتوا نظریہ مذہبی نفرت کو ہوا دے رہا ہے جس کے نتیجے میں بلوائیوں کا تشدد، فرقہ وارانہ فسادات، عبادت گاہوں پر حملے اور مذہبی آزادیوں پر پابندیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں،اسی ماہ کے آغاز میں سہارنپور ، بھارت میں 150 سال پرانی مسجد کا انہدام اس کی ایک مثال ہے، مذہبی نفرت کی اس دنیا میں قطعی طور پر کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے۔
وزیراعظم نے قومی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معاشی بحالی میری حکومت کی بنیادی ذمہ داری اور میرے دل کے بہت قریب ایک مشن ہے، مشکل اور طویل عرصے سے مؤخر ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور سخت مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے ہم نے معاشی استحکام بحال کیا ہے اور پائیدار اور جامع ترقی کی جانب سفر شروع کر دیا ہے، ہم زراعت اور صنعت کو جدید بنا رہے ہیں، معدنی وسائل کو ترقی دے رہے ہیں، معیشت کو ڈیجیٹل بنا رہے ہیں اور اپنے نوجوانوں کو جدید مصنوعی ذہانت اور آئی ٹی کی مہارتوں سے آراستہ کر رہے ہیں،ہم چین کے ساتھ چین پاکستان اقتصادی راہداری جبکہ خلیج، وسطی ایشیا اور دیگر خطوں کے ساتھ نئے راستے کھول رہے ہیں۔
وزیراعظم شہبا زشریف نے چین کے صدر شی جن پنگ کی بصیرت افروز قیادت کوگلوبل ڈویلپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹوکی قیادت کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا ،ان ستونوں کی بنیاد پر ہم یقیناً انسانیت کے لیے ایک مشترکہ مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو بروقت قرضوں میں ریلیف، مناسب طویل المدت مالی معاونت اور عالمی مالیاتی اداروں میں زیادہ توانا آواز کی اشد ضرورت ہے، ترقی کو بھی سلامتی جتنی ہی فوری توجہ دی جانی چاہئے۔وزیراعظم نے کہا کہ کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ پاکستان عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے لیکن اس کے باوجود بار بار موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات کا سامنا کرتا ہے؟ ترقی یافتہ ممالک کو چاہئے کہ وہ اپنے موسمیاتی مالی معاونت کے وعدوں کو مزید تاخیر کے بغیر پورا کریں، نقصان اور تباہی کے ازالے کے لیے مالی معاونت تیزی سے فراہم کریں اور موافقت اور لچک پیدا کرنے کے لیے ضروری تعاون یقینی بنائیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اجلاس کا موضوع ہم سے اعتماد بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے لیکن اعتماد صرف الفاظ سے بحال نہیں کیا جا سکتا،اعتماد عمل اور رویے کے ذریعے حاصل کرنا پڑتا ہے، اعتماد اس وقت بحال ہوگا جب دریا تنازعات کی فالٹ لائنز نہیں بلکہ تعاون کی لائف لائنز بن جائیں ، اعتماد اس وقت بحال ہوگا جب وہ جنہوں نے موسمیاتی بحران کو ہوا دی، ان کا تحفظ کریں گے جو اس کے تباہ کن نتائج سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر اعتماد اس وقت بحال ہوگا جب بندوقیں خاموش ہوں گی اور ان کی جگہ مصافحے، گلے لگانا اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہو گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ’’یواین 80 اقدام ‘‘کو اقوام متحدہ کو مزید مضبوط، مربوط اور مؤثر بنانا چاہئے، سلامتی کونسل کو زیادہ نمائندہ، جمہوری اور جوابدہ بننا چاہئے،اصلاحات چند چیدہ کے مفادات کی نہیں بلکہ رکن ممالک کی بھاری اکثریت کے مفادات اور امنگوں کی عکاس ہونی چاہئیں، ہمارا نصب العین بدستور یہی ہے’’سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے استحقاق نہیں‘‘۔
وزیراعظم نے خلیل الرحمٰن کو جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انہیں اپنے مکمل تعاون کا یقین دلاتا ہے۔ انہوں نے انالینا بیئربوک کا بھی 80ویں اجلاس کی مؤثر قیادت پر شکریہ ادا کیا جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ان کی متحرک قیادت اور اقوام متحدہ اور عالمی جنوب بالخصوص پسے ہوئے اور غریب طبقے کے لیے مضبوط آواز بننے پر پاکستان کی جانب سے دلی خراجِ تحسین پیش کیا۔








