نئی دہلی(جانب منزل نیوز)بھارتی ریاست منی پور میں نسلی فسادات کے باعث بے گھر ہونے والے شہریوں کی مشکلات کم نہ ہو سکیں، جہاں سرکاری ریلیف کیمپس پناہ گاہوں کی بجائے سنگین مسائل کی تصویر بن چکے ہیں۔بھارتی جریدے ’’دکن ہیرالڈ‘‘ کی زمینی رپورٹ کے مطابق ریلیف کیمپوں میں غذائی قلت، پینے کے صاف پانی کی کمی اور طبی سہولیات کا شدید فقدان ہے۔
تصادم کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد عارضی پناہ گاہوں میں گنجائش سے زیادہ تعداد میں مقیم ہیں جبکہ حکومتی عدم توجہی کے باعث تقریباً 24 ہزار افراد بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کے ماہرین نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریلیف کیمپوں کی حالتِ زار نے ایک نااہل اور بے حس حکومت کے دور میں جنم لینے والے شدید انسانی بحران کو آشکار کر دیا ہے۔








