ماسکو/ولادی ووستوک (جانب منزل نیوز) روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی، تجارت، ثقافت اور تخلیقی شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں، جبکہ جدید ٹیکنالوجی دونوں ممالک کے درمیان زبان کی رکاوٹیں ختم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
فیصل ترمذی نے روس کے شہر ولادی ووستوک میں جاری ایسٹرن اکنامک فورم 2026 کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان عوامی اور ثقافتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے۔
پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ زبان دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی تعاون میں ایک رکاوٹ ضرور ہے، تاہم مصنوعی ذہانت اور جدید ترجمہ ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اس فاصلے کو کم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، روس اور دیگر ممالک کے درمیان موسیقی، فلم، ٹیلی ویژن اور دیگر تخلیقی شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے پاکستانی موسیقی، فلم، فیشن، ڈیزائن، روایتی دستکاری اور دیگر تخلیقی شعبوں کو روس کے مشرقی خطے میں متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی ملک کی ڈیجیٹل اور تخلیقی معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
فیصل ترمذی نے کہا کہ پاکستانی فنکاروں اور تخلیق کاروں نے دنیا کے مختلف بڑے شہروں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور اب ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ اور ولادی ووستوک سمیت روس کے دیگر شہروں میں بھی پاکستانی فنون اور ثقافت کو متعارف کرانے کے مزید مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے روسی فنکاروں، موسیقاروں اور تخلیق کاروں کے لیے بھی پاکستان میں مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ثقافتی تبادلوں سے دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور روس کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تجارت، رابطہ کاری، ٹیکنالوجی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ ایسٹرن اکنامک فورم 2026 یکم سے 4 ستمبر تک روس کے شہر ولادی ووستوک میں منعقد ہو رہا ہے، جس میں روس کے مشرقی خطے کی ترقی اور ایشیا پیسیفک ممالک کے ساتھ اقتصادی و تجارتی تعاون سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔








