دبئی (جانب منزل نیوز) دنیا کے بڑے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس (Binance) کو بڑے سائبر حملے کے بعد صارفین کی جانب سے بھاری رقوم نکلوانے کا سامنا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے 6.3 ارب ڈالر کے سائبر حملے کے بعد صارفین نے پلیٹ فارم سے مجموعی طور پر 4.72 ارب ڈالر، یعنی 17.3 ارب درہم نکال لیے۔
بائنانس کے مطابق یہ انخلا پلیٹ فارم پر موجود مجموعی اثاثوں کا تقریباً 3 فیصد ہے، تاہم صارفین کی سرگرمیاں بتدریج معمول پر آ رہی ہیں۔ کمپنی نے انکشاف کیا ہے کہ اتوار سے رقوم نکلوانے کی سہولت بحال ہونے کے بعد صارفین نے 2.7 ارب ڈالر کی نئی رقوم بھی جمع کرائیں۔
ہانگ کانگ فن ٹیک ویک میں بائنانس کے شریک چیف ایگزیکٹو رچرڈ ٹینگ نے کہا کہ کمپنی مالی طور پر مستحکم ہے اور حملے سے ہونے والے نقصان کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ کرپٹو اثاثوں میں سے 95 فیصد ہنگامی تحفظ فنڈ اور کمپنی کے دیگر مالی وسائل سے پورے کر دیے گئے ہیں، جبکہ باقی 5 فیصد کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے سائبر حملے کا الزام شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر پر عائد کیا ہے۔ بلاک چین تجزیاتی ادارے ایلیپٹک کے مطابق ہیکرز کے کنٹرول میں اب بھی تقریباً 3.28 ارب ڈالر مالیت کی چوری شدہ کرپٹو کرنسی موجود ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر سائبر حملے کے باوجود عالمی مالیاتی منڈیوں میں وسیع پیمانے پر افراتفری پیدا نہیں ہوئی۔ بائنانس انتظامیہ نے واقعے کی مکمل تفصیلات پر مبنی رپورٹ جاری کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔





