دبئی (جانب منزل نیوز) دبئی پولیس نے فرانزک تحقیقات کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرا کر اہم سنگ میل عبور کرلیا۔ نئے اسمارٹ ڈیجیٹل نظام کی مدد سے زہریلے مادوں کے فرانزک ٹیسٹ کی پروسیسنگ کا دورانیہ تقریباً 60 منٹ سے کم کرکے ایک منٹ سے بھی کم کردیا گیا ہے۔
یہ جدید پلیٹ فارم دبئی پولیس کے شعبہ فرانزک سائنس اینڈ کرمنالوجی سے تعلق رکھنے والے چار اماراتی ماہرین نے تیار کیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے لیبارٹری ڈیٹا، سائنسی حوالہ جات، حساب کتاب اور نتائج کا ابتدائی تقابلی جائزہ ایک ہی پلیٹ فارم پر ممکن ہوگیا ہے۔
نئے نظام کے تحت ڈیٹا پراسیسنگ کے مراحل 10 سے کم ہوکر صرف 2 رہ گئے ہیں، جبکہ پہلے الگ الگ انجام دیے جانے والے چھ حسابی مراحل اب ایک خودکار عمل کے ذریعے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ رپورٹس اور نتائج تیار کرنے کا وقت بھی اوسطاً 30 منٹ سے کم کرکے صرف ایک منٹ کردیا گیا ہے۔
منصوبے کی قیادت لیفٹیننٹ کرنل ڈاکٹر راشد حمید الرمیثی نے کی، جبکہ کیپٹن انجینئر محمد عبدالقادر الشمسی، مروہ عقیل الجناحی اور فاطمہ علی السویدی بھی اس ٹیم میں شامل ہیں۔
حکام کے مطابق جدید نظام لیبارٹری ڈیٹا خودکار طور پر پڑھنے، ضروری حساب کتاب کرنے اور سائنسی حوالہ جات سے نتائج کا موازنہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے فرانزک ماہرین کو معمول کے دفتری اور حسابی کاموں کے بجائے پیچیدہ سائنسی تجزیوں پر زیادہ توجہ دینے کا موقع ملے گا۔
دبئی پولیس نے واضح کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ماہرین کی جگہ نہیں لے گی بلکہ ان کی معاونت کرے گی۔ نتائج کی جانچ، تصدیق اور حتمی تکنیکی رائے دینے کی ذمہ داری متعلقہ ماہرین ہی انجام دیں گے۔
دبئی پولیس مستقبل میں اس پلیٹ فارم کو لیبارٹری آلات کے ساتھ مزید مربوط کرنے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سہولیات متعارف کرانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے، جس سے فرانزک تحقیقات کی رفتار، معیار اور استعداد میں مزید بہتری آئے گی۔





