پشاور (جانب منزل نیوز) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کے اعتراف اور ان کے خاندانوں کو مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے شہداء پیکج اور دورانِ ڈیوٹی زخمی ہونے والے اہلکاروں کی مالی معاونت میں نمایاں اضافے کا اعلان کردیا ہے۔ نئے پیکج کے تحت مختلف رینکس کے پولیس شہداء کے معاوضوں میں اضافہ کیا گیا ہے، مستقل معذوری کی صورت میں 50 لاکھ روپے دینے اور شہداء کے ورثاء کو پلاٹ کے بجائے نقد رقم فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
گورنر فیصل کریم کنڈی کے مطابق کانسٹیبل سے انسپکٹر تک کے پولیس شہداء کا معاوضہ ایک کروڑ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر ایک کروڑ 70 لاکھ روپے کردیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈی ایس پی اور اے ایس پی رینک کے شہداء کے لواحقین کے لیے معاوضہ ایک کروڑ 60 لاکھ روپے سے بڑھا کر ڈھائی کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
اعلان کے مطابق گریڈ 18 اور 19 کے پولیس شہداء کا معاوضہ 2 کروڑ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 3 کروڑ روپے کردیا گیا ہے، جبکہ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کے شہداء پیکج میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس کی مالیت 2 کروڑ 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر ساڑھے 3 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے۔
پولیس اہلکاروں کی دورانِ ڈیوٹی قربانیوں اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے زخمی اہلکاروں کے لیے مالی معاونت کا پیکج بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ دورانِ ڈیوٹی زخمی ہونے والے اہلکاروں کا پیکج ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے کردیا گیا ہے، جبکہ مستقل معذوری کی صورت میں 50 لاکھ روپے فراہم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
اس اقدام کا مقصد فرائض کی انجام دہی کے دوران زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں اور معذوری کا شکار ہونے والوں کو مالی سہارا فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اور ان کے اہل خانہ مشکلات کا بہتر طور پر مقابلہ کرسکیں۔
گورنر خیبر پختونخوا نے شہداء کے خاندانوں کے لیے رہائشی معاونت کے طریقہ کار میں تبدیلیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق کانسٹیبل سے انسپکٹر رینک تک کے شہداء کے ورثاء کو 5 مرلہ رہائشی پلاٹ دینے کے بجائے ایک کروڑ 80 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔
اسی طرح ڈی ایس پی اور اے ایس پی رینک کے شہداء کے ورثاء کے لیے رہائشی معاونت کی مد میں ڈھائی کروڑ روپے منظور کیے گئے ہیں۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے پولیس شہداء کے ورثاء کو پلاٹ کے بجائے 7 کروڑ روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فیصل کریم کنڈی کے اعلان کے مطابق پولیس اہلکار کی شریکِ حیات یا بچوں کی وفات کی صورت میں بھی 50 لاکھ روپے فراہم کیے جائیں گے۔ اس فیصلے کو پولیس اہلکاروں کے خاندانوں کو مالی تحفظ دینے اور مشکل حالات میں ان کی معاونت کے لیے اہم اقدام قرار دیا جارہا ہے۔
خیبر پختونخوا میں پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ اور امن و امان کے قیام کے لیے مسلسل فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں شہداء کے معاوضوں، زخمی اہلکاروں کی امداد اور ورثاء کی رہائشی معاونت میں اضافہ پولیس فورس اور متاثرہ خاندانوں کے لیے اہم مالی سہارا ثابت ہوسکتا ہے۔





