اسلام آباد(جانب منزل نیوز) اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کل بھی پی ٹی آئی کو بات باور کرانے کی کوشش کی، وزیراعظم نے کہا ذاتی سیاسی ایجنڈے کو قومی مفادات پر ترجیح نہ دی جائے، پی ٹی آئی کا ایک ہی ایجنڈا رہا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کیا جائے، اور گالم گلوچ کا کلچر سیاست میں عام کیا جائے۔
رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ پی ٹی آئی 2014 کے 126 دن کے دھرنے سے لے کر اب تک ملک میں سیاسی عدم استحکام اور بدزبانی کے کلچر کو فروغ دے رہی ہے، اور قومی مفادات پر ذاتی ایجنڈے کو ترجیح دے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور کسٹمز اہلکاروں کی شہادتوں کے باوجود کے پی حکومت پر سرکاری وسائل کو سیاسی مقاصد، جلسوں اور ڈھول بجا کر لوگوں کو اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کرنے کا الزام، جسے ناقابلِ برداشت قرار دیا گیا۔
4 اکتوبر سے شروع ہونے والے لانگ مارچ میں چند ہزار افراد بھی جمع نہیں ہو سکے، جبکہ منتظمین پر مارچ کی آڑ میں مالی فائدی حاصل کرنے اور پختون عوام کو مشکلات میں ڈالنے کا الزام لگایا۔
رانا ثناء اللہ نے سلمان اکرم راجہ کے مؤقف کو رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں صرف دہشت گردوں کے خلاف ہیں، اور اس سے عوام متاثر ہوں گے نہ ہی نئے آئی ڈی پیز بنیں گے۔
مشیر وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب، قطر، چین اور ترکیہ نے افغان حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے پر زور دیا، افغان انتظامیہ نے حقائق تسلیم کیے مگر گارنٹی دینے سے گریز کیا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاک افواج کے اقدامات پر پی ٹی آئی کے سوا پوری قوم اور تمام ادارے ایک پیج پر ہیں۔





