ابوظہبی (جانب منزل نیوز) پاکستانی شہری شوکت آفتاب نے لاٹری میں 1 کروڑ 50 لاکھ درہم یعنی 1 ارب 13 کروڑ 37لاکھ پاکستانی روپے کا انعام جیت لیا۔64 سالہ شوکت آفتاب گزشتہ 15 سال سے بگ ٹکٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔
اماراتی اخبار دی نیشنل کے مطابق شوکت آفتاب کو جب بگ ٹکٹ ریفل سے کال موصول ہوئی تو وہ متحدہ عرب امارات میں موجود نہیں تھے، جس نے انہیں حیرت اور خوشی دونوں میں مبتلا کر دیا۔ بگ ٹکٹ ریفل کے کال کرنے والے نے تصدیق کی کہ پاکستانی شہری نے ستمبر کی قرعہ اندازی میں 15 ملین درہم (4 ملین ڈالر) کا جیک پاٹ جیت لیا ہے۔
چونسٹھ سالہ آفتاب نے بتایا کہ جب مجھے جیت کی کال موصول ہوئی تو میں ابتداً حیران ہوا کیونکہ میں اس وقت سفر میں تھا۔ میں بہت خوش ہوں اور بگ ٹکٹ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے یہ موقع فراہم کیا۔ میں سب کو اپنی قسمت آزمانے کی ترغیب دیتا ہوں۔” وہ انعامی رقم کو سوچ سمجھ کر سرمایہ کاری کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ قرعہ اندازی میں حصہ لینا بھی جاری رکھیں گے۔

فلپائن کی خاتون متحدہ عرب امارات لاٹری کی پہلی خاتون ملینئر بن گئیں جنہوں نے 5 ملین درہم جیتے۔خواب کی تعبیر ایک اور شرکاء، ہندوستانی تاجر رویندر ناتھن ونیش کو بھی جیت کی کال موصول ہوئی، جسے انہوں نے ابتداً اسکیم (دھوکا) سمجھا۔ان کے بیٹے نے یوٹیوب پر براہ راست قرعہ اندازی دیکھ کر نتیجہ کی تصدیق کی تو 55 سالہ ونیش اب بھی یقین نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے لینڈ روور ڈیفنڈر جیتا ہے۔کیرالہ سے تعلق رکھنے والااکاؤنٹنٹ تقریباً 30 سال سے شارجہ میں رہائش پذیر ہے۔ وہ ہر ماہ ایک ٹکٹ خریدتے ہیں۔
انہوں نے کہا: “جب مجھے جیت کی کال موصول ہوئی تو میں الجھن میں تھا کیونکہ مجھے اکثر پروموشنل کالز آتی ہیں جو بگ ٹکٹ کی معلوم ہوتی ہیں لیکن اس بار یہ حقیقی تھی۔ ونیش بڑے نقد انعام کے لیے کوشش جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے دوسروں کو مشورہ دیا کہ “کبھی ہمت نہ ہاریں، کیونکہ ایک دن یہ آپ کے اور میرے لیے بھی آئے گا۔
بگ ٹکٹ 1992 میں شروع کیا گیا تھا جس کا ابتدائی انعام 1 ملین درہم تھا۔ یہ متحدہ عرب امارات میں سب سے مقبول ماہانہ ریفلز میں سے ایک ہے۔ اس نے امارات اور اس سے باہر بہت سے لوگوں کی زندگیاں بدل دی ہیں۔ بگ ٹکٹ ملینئر میں شرکت کی فیس 500 درہم ہے اور ٹکٹس آن لائن یا زاید انٹرنیشنل اور العین ایئرپورٹس پر کاؤنٹرز سے دستیاب ہیں۔








