عالم کا کالم
برطانیہ کے علماء میں نامور اور دیدہ ور نام قاضی عبد العزیز کا بھی ہے۔ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں وہ ایک عالمِ باعمل کردار کے نبیل محبتوں کے بدیل انسانیت کی خدمت کے جذبوں کے اصیل ہیں
روحانی اخلاقی نظریاتی دینی حوالوں سے ہمیشہ شیرنی تقسیم کرنے والوں میں سے ہیں ۔مذہب و مسلک کی بات ہو تو وہ صاحبِ حکمت و بصیرت دکھائی دیتے ہیں بات ملک و ملت کی آ جائے تو وہ صاحب غیرت و حمیت بن کر سامنے آتے ہیں ۔مسئلہ انسانیت کی خدمت کا بن جائے تو قاضی عبد العزیز بندۂ کفالت و سخاوت ہوتے ہیں
قاضی عبد العزیز سے جب جب ملاقات ہوئی انہوں نے شفقت و مسرت کے ساتھ اپنے دامن سے جذبات کی فراوانی محبت کا غلبہ والہانہ پن خوبصورت سلیقۂ اظہار سے بے شمار محبتیں بکھیریں مذہبی لوگوں کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ علماء محراب و منبر سے جڑے رہتے ہیں مگر قاضی عبد العزیز نے اپنے قول و فعل سے ثابت کیا کہ وہ محراب و منبر سے تبلیغ اسلام کے ساتھ کمیونٹی کے خُدام بھی ہیں
اسی لئے پاکستان کی عزت و وقار ہو یا برطانیہ کے عوام کی پکار وہ ہمیشہ مسمار بن کر آگے بڑھے اور شعلہ بار ہونے کی بجائے امن کے سالار رہے
قاضی عبد العزیز کی ہمہ جہت شخصیت کے بہت سے پہلو ہیں جن پر لکھا اور کلام کیا جا سکتا ہے مگر لوٹن کی سر زمین پر ان کی خدمات بے مثال ہیں انہوں نے برطانیہ کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے انگلش کمیونٹی۔ میں بھی اسلام کے پیغامِ محبت و اخوت کو بھرپور پھیلایا سرکاری سطح کے لوگوں کو بلایا اور انہیں بتایا ہم عاشقان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور یہ ہمارا اخلاقی و معاشرتی زندگی کا اسلوب ہے جن سے متاثر ہو کر انہیں بہت سے ایوارڈز ملے اور انہیں خدمات و کمالات کے اعتراف پر حکومت پاکستان نے انہیں اعلی سطح ایواڈ سے نوازا۔
گو کہ قاضی عبد العزیز ایوارڈ سے زیادہ اللہ کی بارگاہ سے ریوارڈ کے خواہش مند رہے جو کہ ربِ کریم کی رحمت سے ان کا مقدر بنے گا ہی مگر حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں اس اعزاز سے نوازا جانے پر برٹش پاکستانی عوام بلخصوص مذہبی حلقے اس پر فخراں ہیں اور راحت محسوس کرتے ہیں
تو نوازنے پے آئے تو کوئی حساب نہیں
یہ تیری عطا کے اصول ہیں یہ تیرا نظام کرم ہے
پھول کسی بھی رنگت کا ہو اسے پیار سے ہی دیکھا جاتا اور عزت سے رکھا جاتا ہے ایسے ہی قاضی صاحب ہمارے دلوں میں ہمشیہ ہیں اور رہیں گے سد بار مبارک باد پیش کرتا ہوں جناب قاضی عبد العزیز کو وہ ہمارا فخر ہماری توقیر اور محبان اسلام و پاکستان کی حقیقی تصویر ہیں
علامہ نے ایسے ہی لوگوں کے لئے کہا تھا
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ





