امریکا(جانب منزل نیوز) امریکی ریاست ٹینیسی میں زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت کی ناکام کوشش کے ایک ہفتے بعد 50 سالہ مجرمہ کرسٹا پائیک کو اسپتال میں ہوش آ گیا ہے۔ وکلا کے مطابق ہوش میں آنے کے بعد اس کی حالت تشویشناک ہے اور وہ بولنے کے قابل ہو چکی ہے۔
کرسٹا پائیک امریکا کی تاریخ میں سزائے موت کا مکمل عمل ہونے کے بعد زندہ بچ جانے والی پہلی خاتون بن گئی ہے۔ دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی کوشش کے دوران تمام خواتین پر مشتمل ٹیم نے کم از کم سات سوئیاں استعمال کیں، تاہم دو بار انجیکشن کے باوجود موت واقع نہ ہو سکی۔
اسپتال ذرائع کے مطابق پائیک شدید نمونیا، الجھن اور سوجن کا شکار ہے اور اپنے ہاتھ بازو حرکت دینے یا کھانے پینے سے قاصر ہے۔ عدالت نے اس غیر معمولی واقعے پر کیس کا تمام طبی سامان، سرنجیں، آئی وی لائنز اور بیانات محفوظ کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ کرسٹا پائیک کو 1995 میں اپنی 19 سالہ اسکول ساتھی کولین سلیمر کو تشدد کر کے قتل کرنے پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔





