بہتر روزگار اور خوش حال مستقبل کی خواہش جائز ہے، لیکن انسانی اسمگلروں کے ذریعے غیر قانونی سمندری راستے سے یورپ جانے کی کوشش محفوظ سفر نہیں بلکہ زندگی کو دانستہ خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ خصوصاً سینٹرل میڈیٹیرینین روٹ دنیا کے خطرناک ترین مائیگریشن راستوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں بڑی تعداد میں افراد ہلاک یا لاپتا ہو چکے ہیں۔
اسمگلروں کے جھوٹے وعدے
انسانی اسمگلر لوگوں کی مجبوری اور بہتر مستقبل کی خواہش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عموماً یہ دعوے کرتے ہیں:
اٹلی بہت قریب ہے اور سفر چند گھنٹوں میں مکمل ہو جائے گا؛
کشتی محفوظ اور مسافروں کی تعداد محدود ہوگی؛
موسم بالکل صاف رہے گا؛
طاقت ور انجن اور تربیت یافتہ ڈرائیور موجود ہوگا؛
سیٹلائٹ فون اور معیاری لائف جیکٹس فراہم کی جائیں گی؛
ریسکیو جہاز سمندر میں انتظار کر رہے ہوں گے؛ اور
یورپ پہنچتے ہی رہائش، دستاویزات اور ملازمت مل جائے گی۔
ان دعوؤں کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ لیبیا یا تیونس کے ساحلوں سے یورپ تک سفر سینکڑوں کلومیٹر طویل، غیر یقینی اور جان لیوا ہو سکتا ہے۔
کشتیاں نہیں، تیرتے ہوئے تابوت
اسمگلروں کی استعمال کردہ کشتیاں عموماً سمندری سفر کے قابل نہیں ہوتیں۔ یہ اکثر ناقص پلاسٹک، کمزور لکڑی یا غیر معیاری ویلڈنگ والی دھات سے تیار کی جاتی ہیں۔
کم گنجائش والی کشتی میں کئی گنا زیادہ افراد کو زبردستی سوار کیا جاتا ہے۔
انجن کمزور یا ناقص ہوتا ہے اور چند گھنٹوں میں بند ہو سکتا ہے۔
تربیت یافتہ کپتان، نیویگیشن سسٹم اور حفاظتی سامان موجود نہیں ہوتا۔
کشتی ٹوٹنے، الٹنے، پانی بھرنے یا سمندر میں بے قابو ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔
وزن کم رکھنے کے لیے خوراک اور پانی تک محدود یا ضبط کیا جا سکتا ہے۔
مسافر کئی دن تک پانی، خوراک، علاج اور رابطے کے بغیر پھنس سکتے ہیں۔
کشتی کو لیبیا یا تیونس کے کوسٹ گارڈز روک سکتے ہیں، جس کے بعد حراست یا واپسی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
بعض اوقات مسافروں میں سے کسی غیر تربیت یافتہ شخص کو ہی کشتی چلانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، جبکہ اسمگلر خود ساحل پر رہ کر لوگوں کو موت کے سفر پر روانہ کر دیتے ہیں۔
فون اور لائف جیکٹ حفاظت کی ضمانت نہیں
ساحل سے دور جانے کے بعد موبائل سگنل ختم ہو سکتا ہے۔ فراہم کردہ سیٹلائٹ فون خراب، غیر فعال یا پانی سے متاثر ہو سکتا ہے۔ سمندر بہت وسیع ہے اور ریسکیو جہاز ہر جگہ موجود نہیں ہوتے؛ اس لیے بہت سی کشتیاں کسی کی نظر میں آئے بغیر ڈوب سکتی ہیں۔
اسی طرح، غیر معیاری یا جعلی لائف جیکٹ تیز لہروں، شدید سردی، تھکن اور خراب موسم میں زندگی نہیں بچا سکتی۔ پرسکون سمندر چند گھنٹوں میں خطرناک طوفان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ موسمِ گرما میں زیادہ کشتیاں روانہ ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ سفر محفوظ ہے۔
صرف سمندر نہیں، آگے بھی خطرات ہیں
اگر کوئی شخص سفر میں زندہ بچ بھی جائے تو اسے درج ذیل حالات کا سامنا ہو سکتا ہے:
گرفتاری، حراست، ملک بدری یا دوبارہ داخلے پر پابندی؛
پناہ اور قانونی حیثیت کی کوئی ضمانت نہ ہونا؛
بے گھری، بھوک اور علاج کی عدم دستیابی؛
جبری مشقت، تشدد اور انسانی استحصال؛
تنخواہ کے بغیر غیر قانونی کام؛
پاسپورٹ یا آزادی چھین لیے جانے کا خطرہ؛
قرض اور خاندانی اثاثوں کے ضیاع؛ اور
شدید ذہنی دباؤ، خوف، صدمہ اور خاندانی پریشانی۔
غیر قانونی حیثیت میں رہنے والا شخص عام طور پر باقاعدہ لیبر اور سماجی تحفظ تک مؤثر رسائی حاصل نہیں کر پاتا، جس سے اس کے استحصال کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
اپنی رقم محفوظ مستقبل پر لگائیں
انسانی اسمگلر کو لاکھوں روپے دینے، قرض لینے یا گھر اور زیورات فروخت کرنے کے بجائے اپنی رقم درج ذیل امور پر خرچ کریں:
مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق ہنر حاصل کرنا؛
تسلیم شدہ ووکیشنل ٹریننگ اور سرٹیفکیشن؛
منزل کے ملک کی زبان سیکھنا؛
معیاری سی وی اور جاب سرچ کی تیاری؛
تعلیمی اور پیشہ ورانہ اسناد کی ریکگنیشن؛ اور
قانونی ورک ویزا کے لیے ضروری دستاویزات کی تکمیل۔
محفوظ اور قانونی راستہ اختیار کریں
بیرونِ ملک ملازمت صرف تصدیق شدہ آجر یا لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹر کے ذریعے حاصل کریں۔
پروموٹر کے لائسنس اور ملازمت کی اجازت بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ سے چیک کریں۔
رقم دینے سے پہلے جاب آفر، ورک ویزا، آجر اور ملازمت کے معاہدے کی تصدیق کریں۔
ہر ادائیگی کی باقاعدہ رسید حاصل کریں۔
غیر رجسٹرڈ ایجنٹ یا سب ایجنٹ کو رقم، پاسپورٹ یا اصل دستاویزات نہ دیں۔
روانگی سے پہلے متعلقہ پروٹیکٹر آف ایمیگرنٹس سے قانونی تحفظ حاصل کریں۔
سرکاری، دوطرفہ اور ریگولیٹڈ لیبر موبیلٹی پروگراموں کو ترجیح دیں۔
اہم پیغام: اسمگلر آپ کو منزل دکھاتا ہے، خطرات نہیں۔ غیر قانونی سمندری سفر کی قیمت صرف پیسہ نہیں—آپ کی زندگی، آزادی، عزت اور خاندان کا مستقبل بھی ہو سکتا ہے۔
اپنی یا کسی دوسرے شخص کی زندگی انسانی اسمگلروں کے حوالے نہ کریں۔ انسانی اسمگلنگ سے متعلق معلومات یا شکایت کے لیے ایف آئی اے ہیلپ لائن 1991 سے رابطہ کریں۔








