ریاض (جانب منزل نیوز) سعودی عرب نے سیاحت کے شعبے میں ایک منفرد اور دلکش روایت کو جدید کاروباری تصور میں ڈھال دیا ہے۔ اب مملکت آنے والے غیر ملکی سیاح صرف مہنگے ہوٹلوں اور روایتی سیاحتی مقامات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ انہیں مقامی سعودی خاندانوں کے گھروں میں مہمان بننے، روایتی کھانوں سے لطف اندوز ہونے اور سعودی ثقافت کو قریب سے جاننے کا موقع بھی ملے گا۔
اس منفرد تصور کو عملی شکل دینے والی کمپنی HiHome کی بنیاد نورہ السعدون (Nourah Alsadoun) نے 2019 میں رکھی۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد سیاحوں اور مقامی خاندانوں کے درمیان براہِ راست رابطہ قائم کرکے ثقافتی میل جول اور حقیقی مہمان نوازی کو فروغ دینا ہے۔
اس منصوبے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا پہلا میزبان نورہ کے اپنے والد تھے، جنہوں نے سب سے پہلے اپنے گھر کے دروازے غیر ملکی مہمانوں کے لیے کھولے۔ نورہ کے مطابق کیوبا کے سفر کے دوران ایک مقامی خاندان کے ساتھ کھانے اور گفتگو کا تجربہ ان کے لیے اس قدر یادگار ثابت ہوا کہ انہوں نے اسی طرز کی مہمان نوازی کو سعودی عرب میں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔
HiHome کے ذریعے سیاح سعودی خاندانوں کے ساتھ نجی عشائیے، روایتی پکوان، گھریلو ماحول اور ثقافتی گفتگو سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ یہاں ہر خاندان اپنی روایات، رہن سہن اور انفرادی انداز میں مہمانوں کا استقبال کرتا ہے، تاکہ سیاحوں کو مصنوعی نہیں بلکہ حقیقی سعودی زندگی کی جھلک دکھائی جا سکے۔
یہ منصوبہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت سیاحت، ثقافت اور نئے کاروباری مواقع کے فروغ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ نورہ السعدون کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کاروبار کو وسعت دینے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اس منصوبے کی اصل پہچان انسانی تعلق، اعتماد اور مقامی ثقافت ہے۔
کمپنی مستقبل میں اس منفرد ماڈل کو دیگر ممالک تک وسعت دینے کی خواہاں ہے، جہاں ہر ملک کے مقامی خاندان اپنی ثقافت اور روایات کے مطابق سیاحوں کی میزبانی کریں گے۔
سیاحت کا یہ نیا انداز دنیا کو ایک خوبصورت پیغام دے رہا ہے کہ کسی ملک کی اصل پہچان صرف اس کی عمارتوں، شاہراہوں اور تاریخی مقامات میں نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں، ان کے دسترخوان اور مہمان نوازی میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔





