ممبئی (جانب منزل نیوز) کچھ محبت کی کہانیاں منزل تک نہیں پہنچتیں، مگر وقت گزرنے کے باوجود دلوں میں زندہ رہتی ہیں۔ بھارتی سنیما کی لیجنڈری اداکارہ مدھوبالا اور دلیپ کمار کی ادھوری محبت کی داستان ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ مدھوبالا کی بہن مدھر بھوشن کے مطابق، مدھوبالا زندگی کے آخری ایام تک اپنے پہلے پیار، دلیپ کمار، کو فراموش نہیں کرسکی تھیں۔
حیرت انگیز طور پر دونوں فنکار زندگی میں ایک نہ ہوسکے، لیکن ممبئی کے علاقے جوہو میں ان کی آخری آرام گاہیں بھی ایک دوسرے سے محض پانچ سے دس میٹر کے فاصلے پر ہیں۔
مدھر بھوشن نے ایک حالیہ گفتگو میں بتایا کہ مدھوبالا نے بیماری کے دوران ان سے کہا تھا کہ وہ یوسف صاحب، یعنی دلیپ کمار، کو نہیں بھلا سکتیں۔ ان کے مطابق، پہلی محبت کو بھلا دینا آسان نہیں ہوتا، اور جو شخص ایسا کرنے کا دعویٰ کرے، ممکن ہے وہ اپنے جذبات چھپا رہا ہو۔
دلیپ کمار اور مدھوبالا کی قربت کا آغاز 1951 میں فلم ’’ترانہ‘‘ کے دوران ہوا۔ دونوں کی اسکرین پر جوڑی نے شائقین کے دل جیت لیے، جبکہ فلم ’’مغلِ اعظم‘‘ میں ان کی لازوال کیمسٹری نے اس محبت کی کہانی کو تاریخ کا حصہ بنا دیا۔
رپورٹس کے مطابق دونوں کے درمیان 1957 میں علیحدگی ہوگئی، جب ’’مغلِ اعظم‘‘ کی شوٹنگ جاری تھی۔ مدھر بھوشن نے اس تاثر کی تردید کی کہ دلیپ کمار نے مدھوبالا کی بیماری کی وجہ سے ان کا ساتھ چھوڑا تھا۔ ان کے مطابق، مدھوبالا کے دل کی بیماری کا معاملہ علیحدگی کے بعد سامنے آیا، جبکہ اختلافات کی بنیادی وجہ ان کے والد عطااللہ خان کے ساتھ معاملات تھے۔
مدھر بھوشن کے مطابق، مدھوبالا کو دورانِ شوٹنگ طبیعت بگڑنے کے بعد دل میں سوراخ ہونے کا پتا چلا۔ اس زمانے میں علاج کی سہولیات محدود تھیں۔ بعدازاں مدھوبالا نے کشن کمار سے شادی کی اور علاج کے لیے لندن بھی گئیں، لیکن ڈاکٹروں نے ان کی صحت کے حوالے سے تشویش ظاہر کی۔
وقت کے ساتھ ان کی حالت خراب ہوتی گئی اور وہ بستر تک محدود ہوگئیں۔ بالآخر 1969 میں، صرف 36 برس کی عمر میں، مدھوبالا دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
دلیپ کمار نے اپنی خودنوشت میں مدھوبالا سے آخری ملاقات کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق، سائرہ بانو سے شادی کے بعد مدھوبالا نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو وہ ان سے ملنے گئے۔ اس موقع پر مدھوبالا نے اپنے ’’شہزادے‘‘ کو اس کی ’’شہزادی‘‘ مل جانے پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
مدھوبالا اور دلیپ کمار کی کہانی آج بھی مداحوں کے لیے محبت، جدائی اور ناقابلِ فراموش یادوں کی علامت ہے۔ زندگی میں ادھوری رہ جانے والی یہ محبت، وقت گزرنے کے باوجود، بھارتی فلمی تاریخ کی سب سے یادگار داستانوں میں شمار ہوتی ہے۔





