لاہور (جانب منزل نیوز) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایسی معاشی ترقی کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں، برآمدات میں اضافہ ہو اور معیشت پائیدار بنیادوں پر آگے بڑھے۔ حکومت ٹیکس نظام میں بہتری، سرمایہ کاروں کو سہولیات کی فراہمی اور نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہے۔
لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں ’’استحکام سے ترقی تک: پاکستان کا طویل مدتی اصلاحاتی ایجنڈا‘‘ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، تاہم چیلنجز کے باوجود پاکستان کی معاشی بہتری کا سفر جاری ہے۔ عالمی تنازعات کے اثرات اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑ سکتے ہیں، اس لیے حکومت توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں اور ستمبر کے پہلے ہفتے میں تین ارب یورو کے بانڈز جاری کیے۔ گزشتہ سال اپریل سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آئی ہے، جبکہ یورپ اور امریکا کے سرمایہ کار بھی پاکستانی بانڈز میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق رواں مالی سال ترسیلات زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی میں درآمدات پر انحصار کے باعث ادائیگیوں کے توازن کے بحران کا سامنا کرتا رہا ہے۔ اس صورت حال سے مستقل طور پر نکلنے کے لیے برآمدات میں اضافہ، صنعتی پیداواری صلاحیت میں بہتری اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بڑھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمد کنندگان کو کم شرح سود پر قرضوں کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ حکومت نے برآمدات کے فروغ کے لیے ٹیکس سے متعلق اقدامات بھی کیے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ تقریباً 1.6 ارب ڈالر ہے۔ ملک کے نوجوان گھروں سے کام کرتے ہوئے عالمی منڈیوں کو اربوں ڈالر کی آئی ٹی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ نئی معیشت میں پاکستان کے لیے ترقی کے بڑے مواقع موجود ہیں، جن سے فائدہ اٹھانے کے لیے کاروباری اداروں کو اپنے کاروباری ماڈلز اور پیداواری صلاحیت بہتر بنانا ہوگی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ روپے کی قدر کا تعین مارکیٹ میں طلب اور رسد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ چند سال میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے لیے مارکیٹ سے تقریباً 20 ارب ڈالر خریدے، جبکہ رواں سال بھی تقریباً 6 سے 7 ارب ڈالر خریدے گئے۔ ان کے مطابق برآمدات بڑھانے کے لیے صرف شرح مبادلہ پر انحصار کافی نہیں بلکہ پیداواری صلاحیت اور کاروباری مسابقت میں اضافہ بھی ضروری ہے۔
وزیر خزانہ نے آبادی میں تیز رفتار اضافے اور موسمیاتی تبدیلی کو پاکستان کے بڑے چیلنجز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح 2.55 فیصد ہے۔ آبادی میں اضافے پر قابو پانے کے لیے خواتین کی تعلیم، افرادی قوت میں ان کی شرکت اور علماء کرام کے تعاون سے طویل المدتی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے وفاق اور صوبوں کے درمیان پالیسیوں میں ہم آہنگی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا حجم ماضی میں 50 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا، تاہم اب اس کے استعمال کا اختیار نجی شعبے کو دے دیا گیا ہے اور فنڈ میں 40 ارب روپے موجود ہیں۔ لائیو اسٹاک اور ڈیری کے شعبے کی قیادت اور گورننس بھی نجی شعبے کے حوالے کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق حکومت معاشی فیصلوں میں نجی شعبے کو مرکزی کردار دے کر برآمدات اور سرمایہ کاری کے فروغ کی کوشش کر رہی ہے۔





