لاہور (جانب منزل نیوز) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے نوجوان ڈاکٹروں پر زور دیا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور علم کے فروغ کے ذریعے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کے لیے تحقیق، جدت، معاشی پالیسیوں میں تسلسل اور حقائق پر مبنی فیصلے ناگزیر ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جعلی خبروں اور پروپیگنڈے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
راشد لطیف میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے زیر اہتمام ساتویں کانووکیشن 2026 سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ دنیا میں ٹیکنالوجی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور مصنوعی ذہانت، روبوٹک سرجری سمیت جدید ایجادات طب کے شعبے میں نئے امکانات پیدا کر رہی ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں میں ذہانت اور صلاحیتوں کی کمی نہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ تحقیق سے وابستہ ہوں اور ایسی ٹیکنالوجی تیار کریں جو ملکی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ معیشت کو بھی مضبوط بنائے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے قیام کے بعد بے شمار مشکلات کے باوجود ایٹمی صلاحیت حاصل کی، جے ایف 17 طیاروں کی تیاری سمیت دفاعی شعبے میں نمایاں پیش رفت کی اور جدید ٹیلی مواصلاتی انفراسٹرکچر قائم کیا۔ تاہم جنوبی کوریا، چین اور ویتنام جیسے ممالک نے پاکستان کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کی، اس لیے ہمیں اپنی ترقی کی رفتار کا جائزہ لیتے ہوئے ان وجوہات کی نشاندہی کرنا ہوگی جن کے باعث دوسری اقوام آگے نکل گئیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ 2013 میں پاکستان کو لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کا سامنا تھا، تاہم بعد کے برسوں میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا اور سی پیک کے ذریعے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسیوں میں تبدیلیوں سے سرمایہ کاری متاثر ہوئی، جبکہ پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہتا تو چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی کے مزید مواقع پیدا ہو سکتے تھے۔
انہوں نے نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر پھیلنے والی جعلی خبروں، نفرت انگیز پروپیگنڈے اور سیاسی تقسیم سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معلومات پر یقین کرنے یا اسے آگے پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق ضروری ہے۔ ان کے مطابق فیک نیوز اور پولرائزیشن معاشرے کے لیے بڑے خطرات ہیں اور ان کے منفی اثرات افراد کی سوچ اور قومی ترقی دونوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے ڈاکٹروں کو مریضوں کی نجی معلومات اور طبی رازوں کے تحفظ کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ طب محض ایک پیشہ نہیں بلکہ انسانی زندگیوں سے وابستہ ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ڈاکٹروں کے علم، مہارت اور ہمدردانہ رویے سے مریضوں کی زندگیاں بہتر ہو سکتی ہیں، اس لیے انہیں پیشہ ورانہ اخلاقیات اور رازداری کے اصولوں کی مکمل پابندی کرنی چاہیے۔
احسن اقبال نے فارغ التحصیل طلبہ سے کہا کہ وہ جہاں بھی رہیں، پاکستان کو یاد رکھیں اور وطن کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے زور دیا کہ معرکہ حق سے حاصل ہونے والی عزت کو معرکہ ترقی میں تبدیل کرنا ہوگا تاکہ پاکستان علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور معاشی ترقی میں بھی نمایاں مقام حاصل کر سکے۔
کانووکیشن میں مجموعی طور پر 188 طلبہ و طالبات کو میڈلز اور اسناد سے نوازا گیا، جن میں راشد لطیف میڈیکل کالج کے 147 ایم بی بی ایس اور راشد لطیف ڈینٹل کالج کے 41 بی ڈی ایس گریجویٹس شامل تھے۔ تقریب میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی رجسٹرار کرن فاطمہ، چیئرمین آر ایل کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر راشد لطیف خان، سی ای او صباحت خان، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر فرخ زمان اور ڈائریکٹر زلیخا خان سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔
چیئرمین آر ایل کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر راشد لطیف خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹروں کو امیر اور غریب مریضوں میں تفریق کیے بغیر معیاری علاج فراہم کرنا چاہیے۔ انہوں نے مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ نرم لہجے میں گفتگو اور ڈاکٹرز کی کمیونیکیشن اسکلز بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
سی ای او صباحت خان نے کہا کہ پاکستانی جہاں بھی جائیں، پاکستان ان کی پہچان ہے اور وطن عزیز کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ تقریب کے اختتام پر مہمانوں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں، جبکہ فارغ التحصیل طلبہ کے والدین نے بھی شرکت کی۔





