ٹوکیو(جانب منزل نیوز)دنیا بھر میں حکومتوں اور کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی پروگرامنگ زبان پی ایچ پی ( پی ایچ پی) میں سکیورٹی کی سنگین خامیوں کا انکشاف ہونے کے بعد ہیکنگ سے بچاؤ کے لیے متعدد ویب سائٹس عارضی طور پر بند کر دیں۔بنگلہ دیشی نیوز ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق سائبر سکیورٹی کمپنی وِز ریسرچ کے مطابق پی ایچ پی دنیا کی تقریباً 70 فیصد ویب سائٹس چلانے میں مدد دیتی ہے جن میں آن لائن سٹورز، نیوز ویب سائٹس اور سرکاری خدمات کے پلیٹ فارمز شامل ہیں، سکیورٹی کی دونوں خامیوں کا پتا چلانے والی کمپنیوں میں وِز ریسرچ بھی شامل ہے۔
1990 کی دہائی کے اوائل میں متعارف کرائی گئی پی ایچ پی کا ابتدائی نام ’’پرسنل ہوم پیج‘‘ تھا، تاہم اب اس کا مطلب ’’ہائپر ٹیکسٹ پری پروسیسر‘‘ ہے، یہ ویب سائٹس کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے مقبول پلیٹ فارمز کے بنیادی نظام کا حصہ ہے۔وِز کی ایک بلاگ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ خامیاں پی ایچ پی میں دریافت ہونے والی سنگین ترین سکیورٹی خامیوں میں شامل ہیں اور ممکنہ طور پر سافٹ ویئر کی تاریخ کی خطرناک ترین خامیوں میں سے ہیں۔مصنوعی ذہانت کے زیادہ طاقتور ماڈلز کمپیوٹر کوڈ میں موجود ایسی کمزوریوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں جو برسوں سے انسانی ماہرین کی نظروں سے اوجھل رہی ہوں۔ اس صورت حال نے سائبر سکیورٹی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے، 2026 میں دنیا بھر میں دریافت ہونے والی سافٹ ویئر کی سکیورٹی خامیوں کی تعداد گزشتہ سال کے ریکارڈ کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہونے کا امکان ہے۔پی ایچ پی پروگرامرز نےان خامیوں کے تدارک کے لیے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ جاری کر دیا۔
امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے اداروں کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر اپنی ویب سائٹس کو اپ ڈیٹ کریں یا متاثرہ نظام کو انٹرنیٹ سے منقطع کر دیں۔ چین سے لے کر یورپی یونین تک حکام نے بھی اسی نوعیت کی ہدایات جاری کیں۔ایمازون تھریٹ انٹیلی جنس نے بتایا کہ اس نے پی ایچ پی کی سکیورٹی خامیوں کو عوامی سطح پر ظاہر کیے جانے سے پہلے ہی ہیکنگ کی ایک کوشش کی نشاندہی کی تھی۔ادارے کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ متعلقہ ہیکر کو سکیورٹی خامیوں سے فائدہ اٹھانے کے طریقے کی معلومات کیسے حاصل ہوئیں۔ اس نے اس واقعے کو ایک گمنام انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے ’’ہنی پاٹ کو نشانہ بنانے‘‘ کا واقعہ قرار دیا،تاہم سائبر سکیورٹی کمپنی کیلیف سے وابستہ پی ایچ پی کے مسائل پر کام کرنے والے ریان آسٹن نے بی بی سی کو بتایا کہ فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ ان خامیوں سے فائدہ اٹھانے کا عمل بڑے پیمانے پر شروع ہو چکا ہے،صرف وہی ویب سائٹس متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں جو اپنے سرورز پر پی ایچ پی استعمال کرتی ہیں۔ بہت سے بڑے پلیٹ فارمز دیگر پروگرامنگ زبانیں استعمال کرتے ہیں یا ایسے آپریٹرز کے زیر انتظام ہیں جو فوری طور پر سکیورٹی اپ ڈیٹ نصب کر سکتے تھے اس لیے وہ اپنی خدمات جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔
آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز، سڈنی میں سائبر سکیورٹی کی سینئر لیکچرر راحت مسعود نے ان خامیوں کی دریافت کو ’’انتہائی تباہ کن‘‘ قرار دیا۔انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان خامیوں کے ذریعے حملہ آور بغیر اجازت، صارف نام یا پاس ورڈ کے سرورز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرورز میں داخل ہونے کے بعد حملہ آور اپنی مرضی کے مطابق کارروائیاں کر سکتے ہیں جن میں حساس معلومات چرانے سے لے کر ویب سائٹس کے مواد میں تبدیلی کرنا شامل ہے۔ انہوں نے اداروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیں۔آسٹریلیا، فن لینڈ، نیدرلینڈز اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک میں سرکاری اداروں کی ویب سائٹس بند ہو گئیں۔ انشورنس کمپنیوں، ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور میڈیا اداروں کی خدمات بھی ہنگامی مرمت کے باعث معطل رہیں۔پوکیمون کے ایک مقبول نیند کی نگرانی کرنے والے ایپ سمیت متعدد معروف ایپس کو بھی سکیورٹی اپ ڈیٹ نصب کرنے کے دوران عارضی طور پر آف لائن کر دیا گیا۔
وکی پیڈیا چلانے والے ادارے نے بھی صارفین کو خبردار کیا کہ سکیورٹی خامیوں کو دور کرنے کے دوران خدمات میں تعطل پیش آ سکتا ہے۔پی ایچ پی فاؤنڈیشن جو اس پروگرامنگ زبان پر کام کرنے والے ڈویلپرز کو مالی معاونت فراہم کرتی ہے، نے اپنی بلاگ پوسٹ میں کہا کہ اگر آپ پی ایچ پی استعمال کرتے ہیں تو فوری طور پر اسے اپ ڈیٹ کرنا ناگزیر ہے۔فاؤنڈیشن کے سکیورٹی انجینئر وولکر ڈوش نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں پی ایچ پی کو درپیش سب سے سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے اس کا موازنہ 2014 میں سامنے آنے والی ہارٹ بلیڈ خامی سے کیا جس کے بعد دنیا بھر میں سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کی ہنگامی مہم شروع ہوئی تھی۔





