ابوظہبی (جانب منزل نیوز) متحدہ عرب امارات میں تعلیم کے مستقبل، جدید ٹیکنالوجی اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے پہلے اماراتی ایجوکیشن فورم 2026 کا ابوظہبی میں افتتاح ہو گیا۔ فورم میں وزرا، اعلیٰ حکام، ماہرینِ تعلیم، پالیسی سازوں اور تعلیمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اماراتی خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق فورم کا انعقاد ایمریٹس سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ نے قومی تعلیمی اداروں کے اشتراک سے کیا۔ اس سال فورم کا موضوع ’’تعلیم کے پانچ ستون: ایک مربوط تعلیمی نظام کی جانب‘‘ رکھا گیا۔
فورم میں قومی تعلیمی چارٹر پر عمل درآمد، طلبہ کی بہتر تربیت، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور تعلیم کو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیرِ تعلیم سارہ بنت یوسف العامری نے کہا کہ تعلیمی نظام کو جدید ٹیکنالوجی اور بدلتی ہوئی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ طلبہ میں تنقیدی سوچ، خود سیکھنے کی صلاحیت اور زندگی بھر تعلیم حاصل کرنے کے رجحان کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
چیئرمین نیشنل میڈیا اتھارٹی عبداللہ بن محمد بن بتی الحامد نے تعلیم، میڈیا اور مصنوعی ذہانت کے باہمی تعلق پر روشنی ڈالتے ہوئے نوجوانوں کی مثبت تربیت اور میڈیا میں شفافیت کی اہمیت اجاگر کی۔
وزیرِ مملکت برائے امورِ نوجوانان ڈاکٹر سلطان بن سیف النیادی نے تعلیم، قومی خدمت اور روزگار کے شعبوں میں بہتر رابطے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ نوجوانوں کو پالیسی سازی میں شامل کرنے اور ان کی مستقبل سے متعلق صلاحیتوں کو نکھارنے کی اہمیت بھی بیان کی۔
فورم کے مختلف سیشنز میں مصنوعی ذہانت کے دور میں تعلیم، اساتذہ کی تربیت، عربی زبان کے فروغ، خاندان اور تعلیمی اداروں کے اشتراک اور سائنسی تحقیق کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنے جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے تعلیمی جدت پر مبنی ہیکاتھون اور نیشنل اسپیس اکیڈمی کے فارغ التحصیل طلبہ کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔
فورم میں شریک ماہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت، تعلیمی اداروں، خاندانوں اور معاشرے کے درمیان مضبوط تعاون کے ذریعے اماراتی طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے بہتر طور پر تیار کیا جا سکتا ہے۔





