ابوظہبی ( جانب منزل نیوز) صاف توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور اربوں درہم کی سرمایہ کاری، پائیدار ترقی کی جانب متحدہ عرب امارات کا ایک اور اہم قدم،
متحدہ عرب امارات نے پائیدار ترقی اور روشن مستقبل کی جانب اپنے سفر کو مزید تیز کر دیا ہے۔ ابوظہبی نے 2035 تک بجلی کی مجموعی پیداوار کا 60 فیصد صاف توانائی کے ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ پانی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 300 ارب درہم سے زائد سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
اماراتی خبر رساں ایجنسی وام کے مطابق عالمی یومِ توانائی کے موقع پر سامنے آنے والے یہ اقدامات متحدہ عرب امارات کے اس وژن کی عکاسی کرتے ہیں جس کا مقصد معاشی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی کو یکجا کرکے مستقبل کی ضروریات پوری کرنا ہے۔
محکمہ توانائی ابوظہبی کے انڈر سیکریٹری احمد محمد الرمیثی نے کہا کہ صنعتی ترقی، ڈیجیٹل معیشت اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث توانائی کی ضروریات میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ ابوظہبی توانائی کے مختلف ذرائع کو فروغ دینے، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور وسائل کے مؤثر استعمال کے ذریعے ان ضروریات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت سے استفادہ کرتے ہوئے توانائی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے ساتھ بجلی کی قابلِ اعتماد فراہمی اور صارفین کے لیے مناسب لاگت کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ توانائی کے ڈائریکٹر جنرل برائے ریگولیٹری امور عبدالعزیز محمد العبیدلی نے کہا کہ پانی اور بجلی کے شعبوں میں 2035 تک 300 ارب درہم سے زائد کی منصوبہ بند سرمایہ کاری، ابوظہبی کے بنیادی ڈھانچے کو جدید اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ان کے مطابق شفاف اور مؤثر ضابطہ جاتی نظام سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور طویل مدتی منصوبہ بندی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس حکمتِ عملی کا ایک اہم مقصد صارفین کے مفادات کا تحفظ اور بنیادی سہولتوں کی قابلِ اعتماد فراہمی بھی ہے۔
ابوظہبی کے یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات ترقی کے ساتھ ماحولیاتی ذمہ داری کو بھی اہمیت دے رہا ہے۔ صاف توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے ذریعے امارت ایک ایسے مستقبل کی تیاری کر رہی ہے جہاں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ قدرتی وسائل کا تحفظ اور معاشی استحکام بھی برقرار رہے۔





